سرینگر: وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ماہانہ ریڈیو پروگرام ’من کی بات‘ کے تازہ ترین خطاب میں جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے گاؤں شیخ گنڈ کی اجتماعی کوششوں کو سراہا، جہاں نشہ خوری کے خلاف جدوجہد اور سماجی ذمہ داری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ گاؤں میں منشیات، تمباکو، سگریٹ اور شراب سے متعلق مسائل میں نمایاں اضافہ ہو رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بڑھتے ہوئے ناسور نے ایک مقامی باشندے میر جعفر کو گہری تشویش میں مبتلا کر دیا، جس کے بعد انہوں نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے پہل کرنے کا فیصلہ کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میر جعفر نے پورے گاؤں کو متحرک کیا اور نوجوانوں سے لے کر بزرگوں تک سب کو ساتھ لے کر اس مسئلے کا اجتماعی طور پر مقابلہ کیا۔
مودی نے کہا’’جب خاندان اور سماج کی طاقت یکجا ہو جاتی ہے تو بڑے سے بڑا چیلنج بھی شکست کھا جاتا ہے‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ اس عوامی سطح کی کوشش کے واضح اثرات سامنے آئے، جس کے نتیجے میں شیخ گنڈ کی دکانوں نے تمباکو مصنوعات کی فروخت بند کر دی۔ اس اقدام سے گاؤں کے باشندوں میں منشیات اور دیگر نشہ آور اشیا کے مضر اثرات سے متعلق بیداری بھی پیدا ہوئی۔
وزیر اعظم نے گاؤں کے اجتماعی عزم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ شیخ گنڈ کی مثال اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ نچلی سطح پر کی جانے والی کوششیں اور عوامی شمولیت کس طرح بامعنی سماجی تبدیلی لا سکتی ہیں۔










