نئی دہلی، 19 جنوری (یو این آئی)
راجستھان پردیش کانگریس کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا اور کانگریس لیڈر ٹیکارام جولی نے راجستھان اسمبلی انتخابات سے قبل ووٹر لسٹ میں بڑے پیمانے پر گڑبڑی کا الزام لگایا ہے ۔ مسٹر ڈوٹاسرا نے پیر کے روز یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ اسمبلی حلقوں میں کانگریس کو صرف دو سے تین ہزار ووٹوں کے فرق سے کامیابی ملی تھی، وہاں ایک خاص طبقے کے ووٹ کاٹنے کی کارروائی کی جا رہی ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ جو لوگ ڈبل انجن سرکار سے ناراض ہیں، ساٹھ برس سے زیادہ عمر کے ہیں یا جن کی نوکری سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے زمانے میں لگی تھی، ان کے ووٹ کاٹے جا رہے ہیں۔
انہوں نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ لیول ایجنٹ (بی ایل اے ) راجستھان میں جعلی دستخط کرکے ووٹ فارم جمع کرا رہے ہیں اور مخصوص طبقے کے ووٹ کاٹے جا رہے ہیں۔ 14 جنوری تک 1,40,000 ووٹ رجسٹر کیے گئے ، لیکن ویب سائٹ پر ڈیٹا نظر نہیں آ رہا۔ بی جے پی کے بی ایل اے جعلی دستخط کرکے 10 سے 15 ہزار فارم جمع کرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے اسمبلی حلقے میں بھی اسی طرح کی منمانی کی جا رہی ہے ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ بی جے پی کے لیڈر اور وزیر تک ایس ڈی ایم کو فون کرکے دھمکیاں دے رہے ہیں، جس سے جمہوری عمل متاثر ہو رہا ہے ۔
بی جے پی اور الیکشن کمیشن کو خبردار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ جمہوریت کے لیے سنگین خطرہ ہے ، اسے روکنے کے لیے ہر ممکن قانونی اور انتظامی کارروائی کی جائے گی۔ عوام کی آواز دبانا اور جعلی ووٹنگ کے ذریعے انتخابی عمل کو متاثر کرنا جمہوری اقدار کے خلاف ہے ۔
مسٹر جولی نے الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کی غیر جانبدارانہ جانچ ہونی چاہیے ، راجستھان میں جتنے بھی مطبوعہ فارم آئے ہیں، ان سب کی فارنسک جانچ ہونی چاہیے ۔ یہ معلوم کیا جائے کہ یہ فارم کہاں چھپے اور کون انہیں جے پور لایا، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تمام فارم ایک ہی جگہ چھاپے گئے ہیں اور چھپنے کے بعد جے پور بھیجے گئے ہیں۔ اس کے لیے بی جے پی کے ارکانِ اسمبلی، اسمبلی امیدواروں اور پانچ وزراءکو بھی خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے ۔ انہوں نے پرنٹ شدہ فارم افسران تک پہنچائے ، اس کی بھی جانچ ہونی چاہیے ۔










