سرینگر: ڈیٹا پر مبنی ایک بڑے ٹریفک جائزے کے تحت ریجنل ٹرانسپورٹ آفس (آر ٹی او) کشمیر نے انکشاف کیا ہے کہ جموں و کشمیر بھر میں کم از کم۱۲۵۷دو پہیہ سواروں کے خلاف ہیلمٹ نہ پہننے کی بار بار خلاف ورزی پر کارروائی کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق ان میں سے ایک ہزار سے زائد خلاف ورزیاں صرف کشمیر ڈویژن سے رپورٹ ہوئی ہیں، جو سڑک تحفظ قوانین کے حوالے سے بیداری مہمات اور نفاذی اقدامات کے باوجود عدم تعمیل کے بڑھتے رجحان کی نشاندہی کرتی ہیں۔
ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کو دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، آر ٹی او کشمیر کے دائرہ اختیار میں آنے والا سرینگر۱۰۵۱؍ایسی گاڑیوں کے ساتھ فہرست میں سرفہرست ہے، جو ہیلمٹ کے استعمال سے متعلق بار بار کی جانے والی ٹریفک خلاف ورزیوں کا سب سے بڑا مرکز بن گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق بڈگام میں۵۲ جموں میں۵۴‘بارہمولہ میں۱۹‘پلوامہ میں۱۷؍اور سانبہ میں۱۹کیسز درج ہوئے ہیں، جبکہ اننت ناگ، کپواڑہ، گاندربل اور بانڈی پورہ سمیت دیگر اضلاع میں نسبتاً کم تعداد سامنے آئی ہے۔
یہ اعداد و شمار آر ٹی او کشمیر کی جانب سے جاری ایک نوٹس کے بعد سامنے آئے ہیں، جس میں وادی کے تمام دو پہیہ گاڑی مالکان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سات دن کے اندر اپنے بقایہ چالان ادا کریں، بصورت دیگر موٹر وہیکلز ایکٹ کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی، جس میں رجسٹریشن سرٹیفکیٹ اور ڈرائیونگ لائسنس کی معطلی اور گاڑیوں کی ضبطی بھی شامل ہے۔
نوٹس میں کہا گیا ہے’’دستخط کنندہ کے نوٹس میں آیا ہے کہ کشمیر ڈویژن کے تحت آنے والے اضلاع میں رجسٹرڈ متعدد دو پہیہ گاڑیاں موٹر وہیکلز ایکٹ۱۹۸۸کی خلاف ورزی کرتے ہوئے عوامی سڑکوں پر چلائی جا رہی ہیں، بالخصوص سوار اور پچھلے سوار کی جانب سے ہیلمٹ نہ پہننے کی صورت میں‘‘۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سری نگر شہر میں کئی سواروں کے خلاف ہیلمٹ نہ پہننے پر پانچ سے آٹھ مرتبہ چالان درج کیے جا چکے ہیں، جو مسلسل خلاف ورزی کی نشاندہی کرتا ہے۔
حکام کے مطابق یہ رجحان سڑک تحفظ کے اصولوں سے بڑھتی ہوئی بے اعتنائی کو ظاہر کرتا ہے۔’’یہ ڈیٹا صرف عدم تعمیل نہیں بلکہ عادتاً خلاف ورزی کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر شہری علاقوں میں‘‘۔
آر ٹی او دفتر نے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت کے اندر چالان ادا نہ کرنے کی صورت میں بغیر کسی مزید نوٹس کے فوری نفاذی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔










