’فورسز چوکسی برقرار رکھیں تاکہ دہشت گردی سے پاک جموں و کشمیرکے ہدف کو جلد از جلد حاصل کیا جا سکے‘
نئی دہلی: مرکزی وزیر داخلہ ‘ امت شاہ نے آج نئی دہلی میں جموں کشمیر سے متعلق ایک سلامتی جائزہ اجلاس کی صدارت کی۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں حکومتِ ہند جموں و کشمیر میں پائیدار امن قائم کرنے اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پُرعزم ہے۔
دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی مسلسل اور مربوط کوششوں کے نتیجے میں جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے پورے ماحولیاتی نظام کو مفلوج کر دیا گیا ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے جموں و کشمیر میں سلامتی کی صورتحال کو مضبوط بنانے کے لیے سکیورٹی ایجنسیوں کی کوششوں کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے اور دہشت گردی کی مالی معاونت کو نشانہ بنانے والی کاؤنٹر ٹیرر (سی ٹی) کارروائیاں مشن موڈ میں جاری رہنی چاہئیں۔
شاہ نے تمام سکیورٹی ایجنسیوں کو ہدایت دی کہ وہ مکمل چوکسی برقرار رکھیں اور باہمی تال میل کے ساتھ کام جاری رکھیں تاکہ آرٹیکل۳۷۰کی منسوخی کے بعد حاصل ہونے والی کامیابیوں کو برقرار رکھا جا سکے اور جلد از جلد ‘دہشت گردی سے پاک جموں و کشمیر’ کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ اس مقصد کے حصول کے لیے تمام ضروری وسائل فراہم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا، مرکزی داخلہ سکریٹری، ڈائریکٹر (انٹیلی جنس بیورو)، چیف سکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل پولیس جموں و کشمیر، مرکزی مسلح پولیس فورسز (سی اے پی ایف) کے سربراہان اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی۔
اس دوران بھارتی فضائیہ کے سربراہ، ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ نے جمعرات کو آپریشن سندور کے دوران خدمات انجام دینے پر این سی سی کیڈٹس کی ستائش کی اور کہا کہ اس فوجی کارروائی نے یہ پیغام مضبوط کیا کہ زندگی صرف پیسہ کمانے یا ذاتی مصروفیات تک محدود نہیں، بلکہ ملک کے لیے کچھ کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔
دہلی کینٹ میں جاری نیشنل کیڈیٹ کور (این سی سی) ریپبلک ڈے کیمپ کے دوران کیڈٹس سے خطاب کرتے ہوئے فضائیہ کے سربراہ نے ان پر زور دیا کہ وہ ملک کے لیے اپنی بہترین خدمات جاری رکھیں، خواہ وہ بعد میں مسلح افواج میں شامل ہوں یا کسی اور پیشے کا انتخاب کریں۔
سنگھ نے کیڈٹس کو یہ نصیحت بھی کی کہ ناکامیوں سے دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ ہر دھچکے سے مزید مضبوط ہو کر ابھریں، اور اس حوالے سے اپنی ذاتی جدوجہد کی مثال پیش کی۔
بھارتی فضائیہ کے سربراہ نے کہا کہ انہوں نے بھی اپنی زندگی اور کیریئر میں ناکامیوں کا سامنا کیا، مگر وہ بھارتی فضائیہ کے سربراہ بنے، جسے انہوں نے’مقدر میں لکھا ہوا‘ قرار دیا۔
سنگھ نے کہا’’لہٰذا، چاہے آپ وردی میں ایک سپاہی ہوں یا فوجی قیادت میں ہوں، یا ایک عام شہری، اپنی پوری کوشش کریں اور قوم سازی میں اپنا کردار ادا کریں‘‘۔
فضائیہ کے سربراہ نے این سی سی کیڈٹس کو بتایا کہ آپریشن سندور کے دوران سول ڈیفنس سرگرمیوں میں ان کے کردار نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔
انہوں نے کہا’’آپریشن سندور نے بہت سی بیداری پیدا کی ہے۔ زندگی صرف پیسہ کمانے یا صرف اپنے لیے کام کرنے کا نام نہیں، بلکہ ملک کے لیے کچھ کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے‘‘۔
آپریشن سندور بھارتی مسلح افواج نے۷مئی۲۰۲۵کی ابتدائی ساعتوں میں انجام دیا، جس کے تحت پاکستان اور پاکستان کے زیرِ قبضہ کشمیر (پی او کے) میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی گزشتہ اپریل میں پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے جواب میں کی گئی تھی، جس میں ۲۶ شہری جان بحق ہوئے تھے۔
حکام کے مطابق، اس دوران بڑی تعداد میں این سی سی کیڈٹس نے ایمرجنسی مشقوں، خون کے عطیہ کیمپوں اور دیگر سول ڈیفنس سرگرمیوں میں مدد فراہم کی۔
ملک بھر سے مجموعی طورپر ۲۴۰۶ا؍ین سی سی کیڈٹس، جن میں۸۹۸لڑکیاں بھی شامل ہیں، اس تقریباً ایک ماہ طویل کیمپ میں حصہ لے رہے ہیں، جس کا افتتاح پیر کے روز نائب صدر سی پی رادھا کرشنن نے کیا تھا۔
یہ کیمپ۲۸جنوری کو این سی سی پی ایم ریلی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگا۔اپنے خطاب سے قبل فضائیہ کے سربراہ نے متعدد ثقافتی پروگرام بھی دیکھے۔
ایک رقص کی پیشکش میں کیڈٹس کے ایک گروپ نے آپریشن سندور کو بصری انداز میں پیش کیا، جس میں فضائی حملوں اور فضائی دفاعی اقدامات کی عکاسی کی گئی۔اس پیشکش میں آپریشن سندور کے لوگو والا ایک پوسٹر بھی شامل تھا، جبکہ ایک وِکست بھارت کے تصور کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔










