سرینگر: جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ ‘عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ میڈیکل کالج کی بندش سے متاثرہ طلبہ کو سپرنومری نشستوں کے ذریعے دیگر اداروں میں ایڈجسٹ کیا جائے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو۔
وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ اگر شری ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالج میں معیار برقرار نہیں رکھا گیا تو اس کی جوابدہی طے ہونی چاہیے۔
سپرنومری نشستیں وہ اضافی نشستیں ہوتی ہیں جو کسی مجاز اتھارٹی کی جانب سے منظور شدہ داخلہ صلاحیت سے زائد پیدا کی جاتی ہیں۔
نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا’’صحت کی وزیر یہاں میرے ساتھ کھڑی ہیں۔ کل وہ میرے ساتھ سانبہ میں تھیں۔ ہم نے اس مسئلے پر تفصیل سے بات کی ہے اور جیسا کہ میں نے کل سانبہ میں حکم نامہ جاری ہونے کے بعد کہا تھا، ان طلبہ نے نیٹ امتحان قانونی طریقے سے پاس کیا ہے۔ ان کے پاس میرٹ ہے۔‘‘
انہوں نے کہا’’انہیں ایڈجسٹ کرنا ہماری قانونی ذمہ داری ہے۔ ہم انہیں ان کے گھروں کے قریب کالجوں میں سپرنومری نشستیں بنا کر ایڈجسٹ کریں گے تاکہ ان کی تعلیم متاثر نہ ہو‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ طلبہ کو ایڈجسٹ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔’’ہم یہ کر کے دکھائیں گے‘‘۔تاہم، وزیر اعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ ایک میڈیکل کالج بند کر کے طویل مدت میں طلبہ کے مستقبل کے ساتھ کیا ناانصافی کی گئی ہے۔
عمرعبداللہ نے کہا،’’آج۵۰نشستوں میں سے۴۰مسلم طلبہ نے حاصل کیں اور اس پر اعتراضات اٹھائے گئے۔ لیکن اگر وقت کے ساتھ اس کالج میں نشستوں کی تعداد بڑھ کر ۴۰۰یا ۵۰۰ ہو جاتی تو ممکن ہے مستقبل میں۲۵۰تا۳۰۰طلبہ جموں سے ہوتے۔ اب وہ طلبہ کہاں جائیں گے‘‘۔
بی جے پی اور جموں کے دیگر حلقوں پر طنز کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ ملک بھر میں میڈیکل کالجوں میں نشستیں حاصل کرنے کے لیے امیدواروں کو سخت جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔
انہوں نے کہا’’شاید ہم واحد جگہ ہیں جہاں ہمیں ایک مکمل طور پر تعمیر شدہ میڈیکل کالج ملا، مگر احتجاج کی وجہ سے اسے بند کرا دیا گیا‘‘۔دیگر کالجوں میں نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کی جانب سے معائنوں سے متعلق سوالات پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ پوچھا جانا چاہیے کہ معائنہ کس نے کیا اور کالج کو منظوری کیسے ملی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’آپ کو یونیورسٹی اور اس کے ذمہ داران سے اوپر سے نیچے تک سوال کرنا چاہیے کہ ایک میڈیکل کالج تعمیر کرنے کے بعد وہ معائنہ کیوں پاس نہ کر سکا؟‘‘نیشنل میڈیکل کمیشن کے اس دعوے پر کہ معیارات پورے نہیں کیے گئے، عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ معاملہ اور بھی افسوسناک ہے۔
’’اس یونیورسٹی کا سربراہ کون ہے اور اس کا چانسلر کون ہے؟ ان سے بھی سوال ہونا چاہیے۔ صرف مجھ سے سوال نہ کریں، ان سے بھی پوچھیں‘‘۔انہوں نے ایک بار پھر کہا کہ اگر معیارات برقرار نہیں رکھے گئے تو جوابدہی لازمی ہے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’اگر آج بی جے پی اس بات پر خوش ہے کہ یونیورسٹی معیار برقرار رکھنے میں ناکام رہی، تو پھر ذمہ دار کون ہے اور اس کے خلاف کیا کارروائی ہوگی؟ ہم ان۵۰طلبہ کو ایڈجسٹ کر دیں گے، مگر طلبہ کے مستقبل کو جو نقصان پہنچا ہے، اس کا جواب کسی کو تو دینا ہوگا‘‘۔
ادارے کو دی گئی مالی امداد واپس لینے کے سوال پر وزیر اعلیٰ نے کہا’’یہ امداد یونیورسٹی کو دی گئی تھی۔ ہم ایسے لوگ نہیں ہیں جو پیسہ دیں اور پھر واپس لے لیں‘‘۔
بے روزگاری اور اس تنقید پر کہ وہ زیادہ بولتے ہیں، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ وہ کبھی کسی مسئلے پر خاموش نہیں رہے۔انہوں نے کہا’’آپ مجھے بتائیں کہ کون سا مسئلہ ہے جس پر میں خاموش رہا ہوں؟ کوئی نہیں۔ اگر کسی کو مزید جواب درکار ہیں تو اسمبلی اجلاس آ رہا ہے۔ اراکین وہاں سوال اٹھا سکتے ہیں اور ہم جواب دیں گے۔‘‘










