ہم نے سنا ہے کہ میڈم جی ………….میڈم محبوبہ مفتی نے آنسو بہائے ہیں ‘ اور انہوں نے جو آنسو بہائے وہ مگر مچھ والے نہیں تھے ‘ اصلی تھے کہ ………….کہ میڈم جی اپنے مرحوم والد کی دسویں برسی پر آبدیدہ ہو گئیں ۔اس لئے ہم یہ مان کر چلتے ہیں کہ میڈم جی کے یہ آنسو مگر مچھ کے آنسو نہیں تھے …………. بالکل بھی نہیں تھے ۔ اس کے باوجود نہیں تھے کہ ہمارے ہاں سیاستدان خود روتے ہیں نہیں بلکہ انہیں دوسروںکو …………. عام لوگوں کو رلانے کی عادت ہے ………….اور ہاں یہ تاریخ بھی ہے ۔ خیر !آنسوؤں پر پھر کبھی بات کریں کہ …………. کہ میڈم جی نے کہا کہ عمر …………. اجی ا پنے وزیر اعلیٰ ‘ عمرعبداللہ پی ڈی پی کے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں اور جموں کشمیر کے مسائل جو عام لوگوں کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑے ہیں ان کے بارے میں یہ جناب کچھ نہیں کررہے ہیں …………. بالکل بھی نہیں کررہے ہیں ۔اب ہم یہ نہیں جانتے ہیں کہ میڈم جی کو مسئلہ کس بات سے ہے………….ان کی پریشانی کیا ہے ………….کیا انہیں مسئلہ اس بات سے ہے کہ وزیر اعلیٰ صاحب ان کی جماعت کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں یا پھر واقعی انہیں اس بات کی پریشانی ہے کہ لوگوں کے مسائل حل نہیں ہو رہے ہیں…………. بالکل بھی نہیںہو رہے ہیں ؟ہم نہیں جانتے ہیں کہ اصل بات کیا ہے کہ ………….کہ اگر ہم کوئی بات جانتے ہیں تو…………. تو یہ ایک بات جانتے ہیں کہ اگر وزیر اعلیٰ پی ڈی پی کے پیچھے پڑ گئے ہیں تو………….تو کیا پی ڈی پی بھی ان کے پیچھے نہیں پڑ گئی ہے ؟کیا بات بات اور ہر بات پر ‘ اُس بات پر بھی جس بات پر وزیرا علیٰ کے پیچھے پڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے………….بالکل بھی نہیں ہے ………….پی ڈی پی ان کے پیچھے پڑ جاتی ہے ………….اور صاحب سیاست تو یہی ہے ‘ کچھ اور نہیں …………. بالکل بھی نہیں ۔ ویسے بھی اگر ہم میڈم جی کی جگہ ہو تے تو………….تو اللہ میاں کی قسم ہم اس پر وزیر اعلیٰ سے کوئی شکوہ اور نہ شکایت کرتے…………. بالکل بھی نہیں کرتے ‘ الٹا ہم خوش ہو تے ………….اس بات پر خوش ہو تے کہ …………. کہ وزیر اعلیٰ ہمیں بھی کچھ سمجھتے ہیں ………….اور اسی لئے وہ ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں …………. ورنہ تین چار ممبران اسمبلی والی پارٹی کے پیچھے کہاں کوئی حکمران جماعت پڑتی ہے ………….ہاتھ دھوکے پڑتی ہے ………….میڈم جی آنسو نہ بہائے بلکہ خوش ہو جائیے اور………….اور وزیر اعلیٰ کا شکریہ کیجئے ………….آپ کی جماعت کے پیچھے پڑ جانے پر شکریہ ۔ ہے نا؟




