سرینگر: وزیرِ دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعہ کے روز کہا کہ ملک میں وائٹ کالر دہشت گردی کا ایک تشویشناک رجحان ابھر رہا ہے، جس کے تحت اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد سماج دشمن اور ملک مخالف سرگرمیوں میں ملوث پائے جا رہے ہیں۔
راج ناتھ سنگھ نے۱۰نومبر کو دہلی کے لال قلعہ کے قریب ہونے والے کار بم دھماکے کی طرف اشارہ کیا، جس میں ملوث افراد کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ ڈاکٹر تھے۔
یہاں بھوپال نوبلز یونیورسٹی کے۱۰۴ یں یومِ تاسیس کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا’’آج ملک میں وائٹ کالر دہشت گردی کا ایک تشویشناک رجحان سامنے آ رہا ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ سماج اور ملک کے خلاف کام کر رہے ہیں‘‘۔
وزیر دفاع نے کہا’’(دہلی) بم دھماکے کے مرتکب ڈاکٹر تھے ‘وہ لوگ جو نسخوں پر ’آر ایکس‘ لکھتے ہیں، مگر ان کے ہاتھوں میں’آر ڈی ایکس‘ تھا۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ علم کے ساتھ اقدار اور کردار کا ہونا بھی ضروری ہے‘‘۔
وزیرِ دفاع نے کہا کہ تعلیم کا مقصد صرف پیشہ ورانہ کامیابی نہیں بلکہ اخلاقیات، اقدار اور انسانی کردار کی تعمیر بھی ہے۔
۱۰ نومبر کو لال قلعہ کے باہر دھماکہ خیز مواد سے بھری آئی۲۰ کار میں ہونے والے دھماکے میں۱۵؍ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ گاڑی ڈاکٹر عمرالنبی چلا رہا تھا۔تحقیقات میں ایک ’وائٹ کالر‘ دہشت گرد ماڈیول کا انکشاف ہوا، جس کے بعد تین ڈاکٹروں مزمل گنائی، عادل رادر اور شاہینہ سعید سمیت دیگر افراد کو گرفتار کیا گیا۔
راج ناتھ سنگھ نے مزید کہا کہ علم صلاحیت پیدا کرتا ہے، صلاحیت خوشحالی کی طرف لے جاتی ہے، خوشحالی راست بازی کی طرف اور بالآخر حقیقی خوشی صرف راست بازی سے ہی حاصل ہوتی ہے۔انہوں نے کہا’’کوئی بھی تعلیمی نظام جو اس مقصد کو پورا نہ کر سکے، جو علم کے ساتھ انکساری، کردار اور ’دھرم‘ (راست بازی) نہ سکھا سکے، وہ نامکمل ہے‘‘۔
وزیر دفاع نے کہا’’جب میں مذہب کی بات کرتا ہوں تو اس کا تعلق مندر، مسجد یا چرچ میں عبادت کے لیے جانے سے نہیں ہونا چاہیے۔ مذہب دراصل فرض کا احساس ہے۔ مذہب اور اخلاقیات سے خالی تعلیم سماج کے لیے مفید نہیں ہوتی اور بعض اوقات مہلک بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اسی لیے کبھی کبھی تعلیم یافتہ لوگ جرائم میں ملوث پائے جاتے ہیں‘‘۔
سنگھ نے کہا کہ دہشت گرد لازمی طور پر ناخواندہ نہیں ہوتے؛ وہ یونیورسٹی اور کالج کی ڈگریاں رکھتے ہیں، مگر دانائی کے فقدان کے باعث دہشت گرد بن جاتے ہیں۔انہوں نے کہا،’’اسی لیے دانائی ضروری ہے‘‘۔
وزیر دفاع نے یہ بھی کہا کہ ملک میں کئی دفاعی اسٹارٹ اپس قابلِ ذکر کام کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا،’’مجھے یقین ہے کہ آئندہ۱۵ سے۲۰برسوں میں بھارت ہتھیاروں کے شعبے میں مکمل طور پر خود کفیل ہو جائے گا‘‘۔انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز لوگوں کی زندگیوں اور کام کے طریقوں کو بدل رہی ہیں اور انہیں بھارت کی ترقی کے لیے مثبت انداز میں استعمال کیا جانا چاہیے۔
سنگھ نے کہا کہ بھارت دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت ہے اور۲۰۳۰تک تیسری بڑی معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے، اور اس سفر میں جامعات کا کردار نہایت اہم ہے۔انہوں نے خودداری اور انا کے درمیان نازک توازن کو سمجھنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اس باریک لکیر کو عبور نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا،’’خودداری کا احساس اہم ہے، لیکن اسے کبھی بھی تکبر میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے‘‘۔
طلبہ کو وسیع القلب ہونے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کہا،’’چھوٹے ذہن کے ساتھ کام نہ کریں۔ جتنا بڑا آپ کا دل ہوگا، اتنا ہی زیادہ خوشی کا احساس ہوگا۔‘‘
اساتذہ کو تعلیم کے مضبوط ترین ستون قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا،’’بھارت میں اساتذہ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ ملک میں سب سے بڑی سماجی تبدیلیوں کے محرک رہے ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ زندگی میں اقدار بہت اہم ہیں اور طلبہ میں انا پیدا نہیں ہونی چاہیے۔
سنگھ نے کہا کہ آج دنیا ماحولیاتی مسائل، صحت کے بحران اور ڈیجیٹل اخلاقیات جیسے مسائل سے دوچار ہے، جن کا حل کسی ایک شعبے سے ممکن نہیں۔انہوں نے کہا،’’حل صرف کثیر الشعبہ جاتی نقطۂ نظر سے ہی نکل سکتا ہے۔ جامعات کو طلبہ کو صرف یہ نہیں سکھانا چاہیے کہ کیا سوچنا ہے، بلکہ یہ بھی کہ کیسے سوچنا ہے۔ انہیں ایسا ماحول پیدا کرنا چاہیے جہاں طلبہ ہمہ گیر انداز میں سوچ سکیں‘‘۔
انہوں نے مزید کہا’’صرف تحقیقی جرائد میں اشاعت تحقیق کا حتمی مقصد نہیں ہونی چاہیے؛ تحقیق کا مقصد زمینی سطح پر تبدیلی لانا ہونا چاہیے، خواہ وہ پالیسی سازی ہو یا سماجی مسائل کے حل۔ جامعات کو حل پر مبنی تحقیق کو فروغ دینا چاہیے۔‘‘










