سرینگر: میر یار بلوچ‘جو ایک نمایاں بلوچ رہنما اور انسانی حقوق کے کارکن ہیں، نے بیجنگ،اسلام آباد اتحاد کے گہرے ہوتے تعلقات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چین آئندہ چند ماہ میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں اپنے فوجی دستے تعینات کر سکتا ہے۔
وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر کے نام اپنے ایک کھلے خط میں انہوں نے نشاندہی کی کہ بلوچستان دہائیوں سے پاکستان کے زیرِ تسلط جبر کا شکار ہے، جہاں ریاستی سرپرستی میں تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں۔
بلوچ قوم پرست رہنماؤں نے مئی۲۰۲۵ میں پاکستان سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ اب میر بلوچ نے اعلان کیا ہے کہ جمہوریہ بلوچستان۲۰۲۶کے پہلے ہفتے میں’۲۰۲۶بلوچستان عالمی سفارتی ہفتہ ‘منائے گا، جس کے ذریعے بلوچستان دنیا بھر کے ممالک سے براہِ راست روابط قائم کرے گا۔
نئے سال کے موقع پر ایس جے شنکر کے نام اپنے پیغام میں بلوچ رہنما نے وزیرِ اعظم نریندر مودی کی قیادت میں بھارتی حکومت کی جانب سے۲۰۲۵ میں کیے گئے جرأت مندانہ اور فیصلہ کن اقدامات کو سراہا۔ ان کے مطابق آپریشن سندور کے تحت۲۲؍اپریل گزشتہ سال پہلگام میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستان کی سرپرستی میں چلنے والے دہشت گردی کے مراکز کو تباہ کیا گیا۔
میر بلوچ نے ان اقدامات کو بھارت کی غیر معمولی جرأت اور علاقائی سلامتی و انصاف کے لیے غیر متزلزل عزم کی علامت قرار دیا۔انہوں نے لکھا’’جمہوریہ بلوچستان کے چھ کروڑ محبِ وطن شہریوں کی جانب سے ہم بھارت کے ایک سو چالیس کروڑ عوام، پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں، میڈیا، سول سوسائٹی اور تمام معزز شخصیات کو نئے سال۲۰۲۶کی دلی اور پُرخلوص مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ یہ بابرکت موقع ہمیں ان گہرے تاریخی، ثقافتی، تجارتی، معاشی، سفارتی، دفاعی اور ہمہ جہت تعلقات پر غور اور جشن منانے کا موقع فراہم کرتا ہے جو صدیوں سے بھارت اور بلوچستان کو جوڑے ہوئے ہیں‘‘۔
انہوں نے مزید کہا’’یہ پائیدار تعلقات ہنگلاج ماتا مندر (نانی مندر) جیسے مقدس مقامات سے بھی ظاہر ہوتے ہیں، جو ہمارے مشترکہ ورثے اور روحانی رشتوں کی لازوال علامت ہیں‘‘۔
بلوچ انسانی حقوق کے کارکن نے امن، خوشحالی، ترقی، تجارت، دفاع، سلامتی، مستقبل کے توانائی چیلنجز اور پوشیدہ خطرات کے تدارک سمیت مختلف شعبوں میں ’’دوستی، اعتماد اور باہمی مفادات‘‘ کے فروغ کے لیے بھارت اور اس کی حکومت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔انہوں نے لکھا’’بلوچستان کے عوام گزشتہ اناسی برسوں سے پاکستان کے ریاستی قبضے، ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ اس ناسور کو جڑ سے ختم کیا جائے تاکہ ہماری قوم کے لیے دیرپا امن اور خودمختاری کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘
میر بلوچ نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتے ہوئے اسٹریٹجک اتحاد کو نہایت خطرناک سمجھتے ہیں، اور خبردار کیا کہ بیجنگ، اسلام آباد کے ساتھ مل کر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کو آخری مراحل تک لے جا چکا ہے۔انہوں نے کہا’’اگر بلوچستان کی دفاعی اور آزادی کی قوتوں کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط نہ کیا گیا اور اگر انہیں ماضی کی طرح نظرانداز کیا جاتا رہا تو یہ بعید نہیں کہ چین آئندہ چند ماہ میں بلوچستان میں اپنی فوجی طاقت تعینات کر دے۔ ساٹھ ملین بلوچ عوام کی مرضی کے بغیر بلوچ سرزمین پر چینی فوجی بوٹوں کی موجودگی بھارت اور بلوچستان دونوں کے مستقبل کے لیے ناقابلِ تصور خطرہ اور چیلنج ثابت ہوگی‘‘۔
انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر بلوچ مزاحمتی اور دفاعی قوتوں کو سنجیدگی سے نہ لیا گیا تو خطہ جلد ہی چین کی براہِ راست فوجی موجودگی کا مشاہدہ کر سکتا ہے۔
خط میں کہا گیا’’اگر بلوچستان کی دفاعی اور آزادی کی قوتوں کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط نہ کیا گیا اور اگر انہیں ماضی کی طرح نظرانداز کیا جاتا رہا تو یہ بعید نہیں کہ چین آئندہ چند ماہ میں بلوچستان میں اپنی فوجی طاقت تعینات کر دے۔‘‘
میر یار بلوچ نے یہ بھی کہا کہ بلوچ عوام کی رضامندی کے بغیر بلوچستان میں کسی بھی چینی فوجی تعیناتی کے پورے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔انہوں نے لکھا’’ساٹھ ملین بلوچ عوام کی مرضی کے بغیر بلوچ سرزمین پر چینی فوجی بوٹوں کی موجودگی بھارت اور بلوچستان دونوں کے مستقبل کے لیے ناقابلِ تصور خطرہ اور چیلنج ہوگی۔‘‘
چین اور پاکستان بارہا سی پیک کے تحت فوجی توسیع کے الزامات کی تردید کرتے آئے ہیں اور مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ یہ منصوبہ خالصتاً معاشی نوعیت کا ہے۔ تاہم بھارت مسلسل سی پیک کی مخالفت کرتا رہا ہے، کیونکہ اس کے مطابق یہ منصوبہ پاکستان کے زیرِ قبضہ جموں و کشمیر سے گزرتا ہے اور خودمختاری و سلامتی سے متعلق سنگین خدشات کو جنم دیتا ہے۔










