نئی دہلی: قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے ) کی ایک خصوصی عدالت نے گوہاٹی، آسام میں حزب المجاہدین دہشت گردانہ سازش کیس کے ایک اہم ملزم کو مجرم قرار دیتے ہوئے اسے قید کی سزا سنائی، این آئی اے حکام نے بدھ کو یہ اطلاع دی۔
این آئی اے عدالت نے منگل کو ملزمین محمد قمرالزمان، ڈاکٹر ہریرہ اور قمر الدین کو الگ الگ سادہ قید کی سزا سنائی، جس کی زیادہ سے زیادہ سزا عمر قید ہے ۔
یہ سزائیں، جو ایک ساتھ چلیں گی، ان میں یواے (پی) ایکٹ‘۱۹۶۷کی دفعہ۱۸کے تحت عمر قید، اور یواے (پی) ایکٹ،۱۹۶۷کی دفعہ ۱۸بی کے تحت، دفعہ۱۲۰؍بی آئی پی سی کے ساتھ پڑھی جانے والی دفعہ۳۸ اور یواے (پی) ایکٹ کے تحت پانچ ،پانچ سال کی سادہ قید کی سزا شامل ہے ۔
عدالت نے تینوں ملزمان پر پانچ پانچ ہزار روپے جرمانہ بھی عائد کیا اور جرمانے کی عدم ادائیگی کی صورت میں مزید تین ماہ قید کی سزا کا حکم دیا۔
آسام کے ہوجائی ضلع کے جمنا مکھ میں کیس نمبر آرسی۲۰۱۸/۰۸ /این آئی اے ،جی یو ڈبلیو، قمرالزمان کی طرف سے۲۰۱۷۔۲۰۱۸ کے دوران دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے آسام میں کالعدم حزب المجاہدین دہشت گرد تنظیم کا ایک ماڈیول قائم کرنے کی سازش سے متعلق ہے ۔
اس سازش کا مقصد عوام میں دہشت پھیلانا تھا۔ این آئی اے کی تحقیقات کے مطابق قمر نے اس مقصد کے لیے ملزمان شاہنواز عالم، سید العالم، عمر فاروق اور دیگرلوگوں کو بھرتی کیا تھا۔
این آئی اے نے مارچ۲۰۱۹میں مذکورہ چار افراد سمیت پانچ افراد کے خلاف چارج شیٹ دائر کی تھی۔ شاہنواز عالم، سید العالم اور عمر فاروق نے اپنے جرائم کا اعتراف کرلیا تھا، جس کے بعد انہیں قصوروار ٹھہرایا گیا جب کہ پانچویں ملزم جینال الدین کی مقدمے کی سماعت کے دوران بیماری کی وجہ سے موت ہوگئی تھی۔










