سرینگر: بھارت کے وزیر خارجہ ‘ایس جے شنکر نے بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم ‘خالدہ ضیا کی آخری رسومات میں بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے ان کے صاحبزادے اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے رہنما طارق رحمان سے ملاقات کی اور وزیر اعظم ‘نریندر مودی کی جانب سے تعزیتی خط ان کے حوالے کیا۔
اس سے قبل انہوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر ‘سردار ایاز صادق سے بھی مختصر ملاقات کی، جو آپریشن سندور کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی ملاقات سمجھی جا رہی ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، ان ملاقاتوں اور خیرسگالی کے تبادلے سے کسی قسم کے سیاسی معنی اخذ نہیں کیے جانے چاہئیں، خبر رساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا نے رپورٹ کیا۔
وزیر خارجہ کا چار گھنٹے پر مشتمل دورۂ ڈھاکہ ایسے وقت میں ہوا جب ہمسایہ ملک کے ساتھ تعلقات میں سرد مہری پائی جا رہی ہے، خصوصاً اس کے بعد کہ عبوری حکومت، جس کی قیادت یونس کر رہے ہیں، اقتدار میں آئی۔ بھارت نے بنگلہ دیش میں اقلیتوں، بالخصوص ہندوؤں پر حملوں پر بارہا تشویش کا اظہار کیا ہے۔
خالدہ ضیا، جو بنگلہ دیش کی تین مرتبہ وزیر اعظم رہیں اور بی این پی کی سربراہ تھیں، طویل علالت کے بعد منگل کے روز انتقال کر گئیں۔
طارق رحمان، جو بی این پی کے قائم مقام چیئرمین ہیں اور۱۲فروری کو ہونے والے انتخابات میں وزارتِ عظمیٰ کے مضبوط امیدوار تصور کیے جا رہے ہیں، خالدہ ضیا کے بڑے صاحبزادے ہیں۔
طارق رحمان سے ملاقات کے دوران ایس جے شنکر نے خالدہ ضیا کی جمہوریت کے لیے خدمات کو سراہا اور آنے والے انتخابات کے بعد بھارت اور بنگلہ دیش کے درمیان قریبی تعلقات کے حوالے سے امید کا اظہار کیا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکرایاز صادق سے ملاقات اس کمرے میں ہوئی جہاں آخری رسومات میں شرکت کے لیے آنے والے ہمسایہ ممالک کے سینئر وزرا اور معززین موجود تھے۔ اس موقع پر ایس جے شنکر کو نیپال کے نئے وزیر خارجہ بالنند شرما سمیت دیگر معزز شخصیات سے خیرسگالی کا تبادلہ کرتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔
ایس جے شنکر اور ایاز صادق کی ملاقات کی تصویر یونس کی جانب سے شیئر کی گئی۔ تصویر کے کیپشن میں کہا گیا’’پاکستان کی قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق بدھ کے روز ڈھاکہ میں سابق بنگلہ دیشی وزیر اعظم خالدہ ضیا کی آخری رسومات سے قبل بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے خیرسگالی کا تبادلہ کرتے ہوئے‘‘۔
یونس کی قیادت میں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد ڈھاکہ کے پاکستان اور اس کے ہمہ موسمی اتحادی چین کے ساتھ بڑھتے تعلقات کو بھارت قریبی نظر سے دیکھ رہا ہے۔










