سرینگر: بھارتی حکومت کے ذرائع نے اس سال کے اوائل میں بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم کے دوران جنگ بندی میں چین کے کردار کے دعوؤں کو مسترد کر دیا ہے۔
ایک میڈیا رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے دوٹوک انداز میں کہا کہ آپریشن سندور کے بعد جنگ بندی کی درخواست اسلام آباد کی جانب سے کی گئی تھی اور اس پورے عمل میں کسی بھی تیسرے فریق کی کوئی ثالثی شامل نہیں تھی۔
یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دعوؤں کی تائید کرتے ہوئے اپنے وزیر خارجہ کے ذریعے مئی کے تنازعے کے دوران بھارت اور پاکستان کے درمیان خود کو امن کا ثالث ظاہر کرنے کی کوشش کی۔
این ڈی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے بھارتی حکومتی ذرائع نے کہا’’بھارت کا ثالثی کے حوالے سے مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے۔ آپریشن سندور کے بعد کسی قسم کی کوئی ثالثی نہیں ہوئی۔ بھارت مسلسل یہ کہتا آیا ہے کہ کسی تیسرے فریق کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان نے جنگ بندی کے لیے بھارت کے ڈی جی ایم او (ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز) سے رابطہ کیا تھا‘‘۔
ٹرمپ کی طرح، چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے بھی بھارت اور پاکستان کے علاوہ کمبوڈیا اور تھائی لینڈ سمیت کئی تنازعات میں امن کرانے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی۔
بیجنگ میں ’’بین الاقوامی صورتحال اور چین کی خارجہ پالیسی‘‘ پر منعقدہ سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے وانگ یی نے کہا’’اس سال مقامی جنگیں اور سرحد پار تنازعات دوسری عالمی جنگ کے بعد کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ شدت سے سامنے آئے۔ جغرافیائی سیاسی بے یقینی میں اضافہ ہوتا رہا۔ پائیدار امن کی تعمیر کے لیے ہم نے ایک معروضی اور منصفانہ مؤقف اختیار کیا اور مسائل کی ظاہری علامات کے ساتھ ساتھ ان کی بنیادی وجوہات پر بھی توجہ دی‘‘۔
چینی وزیر خارجہ نے مزید کہا’’گرم مقامات کے مسائل کے حل کے لیے اس چینی طریقۂ کار کے تحت ہم نے شمالی میانمار، ایرانی جوہری مسئلے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی، فلسطین اور اسرائیل کے مسائل، اور حالیہ کمبوڈیا۔تھائی لینڈ تنازعے میں ثالثی کی‘‘۔
نئی دہلی کا مؤقف رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان فوجی تصادم‘ جو۷مئی کو شروع ہوا تھا، دونوں ممالک کی افواج کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان براہِ راست بات چیت کے ذریعے حل ہوا۔۱۳مئی کو وزارتِ خارجہ کی بریفنگ میں کہا گیا تھا’’جہاں تک جنگ بندی اور دیگر ممالک کے کردار کا تعلق ہے، تو اس حوالے سے مخصوص تاریخ، وقت اور الفاظ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان۱۰مئی۲۰۲۵کو دوپہر۳ بج کر۳۵منٹ پر ہونے والی ٹیلی فونک بات چیت میں طے پائے تھے‘‘۔
بھارت مسلسل اس بات پر زور دیتا آیا ہے کہ بھارت اور پاکستان سے متعلق معاملات میں کسی بھی تیسرے فریق کی مداخلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ایک امریکی دو جماعتی کمیشن کی گزشتہ ماہ جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ کے مطابق، چین نے مئی میں بھارت۔پاکستان تنازعے کو ’’موقع پرستانہ انداز‘‘ میں استعمال کرتے ہوئے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو ’’آزمانے اور فروغ دینے‘‘ کی کوشش کی۔
امریکہ۔چین اقتصادی و سلامتی جائزہ کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بیجنگ نے۷سے۱۰مئی کے چار روزہ تصادم کو اپنی جدید ہتھیاروں کی صلاحیت کو ’’آزمانے اور تشہیر کرنے‘‘ کے لیے استعمال کیا، جو بھارت کے ساتھ جاری سرحدی کشیدگی اور چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی صنعت کے اہداف کے تناظر میں مفید تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا’’یہ پہلا موقع تھا جب چین کے جدید ہتھیار، جن میں ایچ کیو۹فضائی دفاعی نظام، پی ایل۱۵فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل اور جے۱۰لڑاکا طیارے شامل ہیں، عملی جنگ میں استعمال ہوئے، جو ایک حقیقی میدانِ جنگ کے تجربے کے مترادف تھا‘‘۔
پورٹ کے مطابق، چین نے اس کے بعد جون میں پاکستان کو۴۰جے۳۵پانچویں نسل کے لڑاکا طیارے، کے جے۵۰۰ طیارے اور بیلسٹک میزائل دفاعی نظام فروخت کرنے کی پیشکش بھی کی۔تنازعے کے بعد کے ہفتوں میں، چینی سفارت خانوں نے بھارت۔پاکستان تصادم میں اپنے نظاموں کی ’’کامیابیوں‘‘ کی تعریف کی اور اس کے ذریعے اسلحے کی فروخت کو فروغ دینے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق، یہ نتائج کمیٹی کی سماعتوں، تحقیق، عوامی طور پر دستیاب معلومات اور میڈیا رپورٹس پر مبنی ہیں۔چین نے اس دعوے کو بھی کم اہمیت دینے کی کوشش کی کہ اس نے تنازعے کو ’’لائیو لیب‘‘ کے طور پر استعمال کیا، اور بھارتی فوج کے نائب سربراہ لیفٹیننٹ جنرل راہول آر سنگھ کے الزامات کا براہِ راست جواب دینے سے گریز کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل سنگھ نے کہا تھا کہ آپریشن سندور کے دوران چین کی حکمتِ عملی اس کے قدیم عسکری نظریے’ ۳۶حکمتِ عملیوں‘پر مبنی تھی، اورادھار کے چاقو سے دشمن کو مارنے‘ کے اصول کے تحت بیجنگ نے پاکستان کو ہر ممکن مدد فراہم کی تاکہ بھارت کو نقصان پہنچایا جا سکے۔










