سرینگر/۲۷ دسمبر
وزارتِ ماحولیات کے تحت قائم ایک پینل نے جموں و کشمیر کے ضلع کشتواڑ میں دریائے چناب پر ۲۶۰ میگاواٹ کے دلہستی اسٹیج۔ٹو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی منظوری دے دی ہے، حکام نے ہفتے کے روز بتایا۔
یہ منظوری رواں سال اپریل میں پہلگام میں ہونے والے مہلک دہشت گرد حملے کے بعد بھارت کی جانب سے پاکستان کے ساتھ سندھ طاس معاہدہ معطل کیے جانے کے پس منظر میں دی گئی ہے۔
ہائیڈل منصوبوں سے متعلق ماہرین کی جانچ کمیٹی (ایکسپرٹ اپریزل کمیٹی) نے اس منصوبے کو رواں ماہ کے اوائل میں اپنی ۴۵ویں میٹنگ کے دوران منظوری دی، جس کے بعد ۳۲۰۰ کروڑ روپے سے زائد لاگت والے اس رَن آف دی ریور منصوبے کے لیے تعمیراتی ٹینڈرز جاری کرنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
میٹنگ کی کارروائی (منٹٹس) کے مطابق، پینل نے نوٹ کیا کہ دریائے چناب کے حوض (بیسن) کا پانی سندھ طاس معاہدہ ۱۹۶۰ کی دفعات کے مطابق بھارت اور پاکستان کے درمیان تقسیم ہے، اور اس منصوبے کے پیرامیٹرز اسی معاہدے کے مطابق ترتیب دیے گئے تھے۔تاہم، پینل نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ’’سندھ طاس معاہدہ ۲۳؍اپریل ۲۰۲۵ سے مؤثر طور پر معطل ہے‘‘۔
جب سندھ طاس معاہدہ نافذ تھا تو دریائے سندھ، جہلم اور چناب پر پاکستان کے حقوق تھے، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج بھارت کے حصے میں تھے۔ معاہدہ اب معطل ہونے کے بعد مرکز حکومت سندھ طاس کے حوض میں کئی ہائیڈرو الیکٹرک منصوبوں کو آگے بڑھا رہی ہے، جن میں سوا لکوتے، رتلے، بْرسَر، پاکل دلہستی، کواڑ، کیرو اور کرتھائی۔ون اور ٹو شامل ہیں۔
دلہستی اسٹیج۔ٹو موجودہ ۳۹۰میگاواٹ دلہستی اسٹیج۔ ون ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ (دلہستی پاور اسٹیشن) کی توسیع ہے، جو نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن لمیٹڈ کے تحت ۲۰۰۷ میں کمیشننگ کے بعد سے کامیابی کے ساتھ کام کر رہا ہے۔
منصوبے کے تحت، اسٹیج۔ون پاور اسٹیشن سے پانی کو۳۶۸۵ میٹر لمبی اور۵ء۸ میٹر قطر کی علیحدہ سرنگ کے ذریعے موڑا جائے گا، تاکہ اسٹیج۔ٹو کے لیے گھوڑے کی نعل (ہارس شو) کی شکل کا ایک پونڈیج تیار کیا جا سکے۔
اس منصوبے میں ایک سرج شافٹ، ایک پریشر شافٹ، اور ایک زیرِ زمین پاور ہاؤس بھی شامل ہے، جس میں دو ۱۳۰ میگاواٹ کے یونٹس نصب کیے جائیں گے۔ اس طرح منصوبے کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت۲۶۰میگاواٹ ہوگی اور سالانہ توانائی کی پیداوار حاصل کی جائے گی۔
منصوبے کیلئے مجموعی طور پر۳ء۶۰ ہیکٹیئر زمین درکار ہوگی۔ اس میں ضلع کشتواڑ کے دو دیہات، بینزوار اور پالمار، سے۲۷ء۸ ہیکٹیئر نجی زمین حاصل کی جائے گی۔
(ویب ڈیسک )










