نئی دہلی/۲۳ دسمبر:
دہلی ہائی کورٹ نے منگل کے روز کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں مسرت عالم بھٹ، شبیر احمد شاہ، نعیم احمد خان، تاجر ظہور احمد شاہ وٹالی اور دیگر کی جانب سے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں فردِ جرم عائد کیے جانے کے ٹرائل کورٹ کے حکم کے خلاف دائر اپیلیں مسترد کر دیں۔
جسٹس وویک چودھری اور جسٹس منوج جین پر مشتمل ڈویڑن بنچ نے حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کے بیٹوں شاہد یوسف اور سید احمد شکیل کی جانب سے دائر اپیلیں بھی مسترد کر دیں۔
عدالت نے قرار دیا کہ چونکہ یہ اپیلیں فردِ جرم کے حکم کے خلاف دائر کی گئی تھیں، اس لیے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) ایکٹ کی دفعہ ۲۱ کے تحت یہ قابلِ سماعت نہیں ہیں۔
این آئی اے ایکٹ کی دفعہ ۲۱ کے مطابق خصوصی این آئی اے عدالت کے عبوری (انٹرلوکیوٹری) احکامات کے خلاف اپیل دائر نہیں کی جا سکتی۔
عدالت کے تفصیلی فیصلے کا انتظار ہے۔
خصوصی این آئی اے عدالت نے مارچ ۲۰۲۲ میں اپیل کنندگان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات پر فردِ جرم عائد کی تھی۔ خصوصی جج پروین سنگھ نے کہا تھا کہ ملزمان کا مشترکہ مقصد علیحدگی تھا اور وہ ’’پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی اور مالی معاونت‘‘ میں کام کرنے والی دہشت گرد تنظیموں کے ساتھ قریبی تعلق رکھتے تھے۔
قابلِ ذکر ہے کہ اسی مقدمے میں عدالت نے لشکرِ طیبہ کے بانی حافظ سعید، حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین اور جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ کے بانی یاسین ملک کے خلاف بھی فردِ جرم عائد کی تھی۔
جہاں حافظ سعید اور سید صلاح الدین کے پاکستان میں ہونے کی بات کہی جاتی ہے، وہیں یاسین ملک نے مقدمے میں جرم قبول کر لیا تھا اور انہیں عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔ این آئی اے کی جانب سے ان کے خلاف سزائے موت کی اپیل دہلی ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔
آج ایک مشترکہ فیصلے میں ہائی کورٹ نے دیگر دہشت گردی کے مختلف مقدمات میں ملوث کئی افراد کی جانب سے دائر اپیلیں بھی مسترد کر دیں۔
ان میں جاوید علی، علیما جمیر، ماساسونگ آؤ، عبدالرحمن، محمد وقار لون، راج کمار، رؤف احمد بھٹ، متین احمد بھٹ، حارث نثار لنگو، منان ڈار، حنان گلزار ڈار، ضامن عادل بھٹ اور ارسلان فیروز آہنگر شامل ہیں۔ایجنسیز










