وادی کشمیر میں سخت سردیوں کیلئے مشہور چالیس روزہ چلہ کلاں ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب سے شروع ہو رہا ہے جو جنوری کی۳۱تاریخ کو اختتام پذیر ہوگا ۔
اپنے چالیس روزہ دور اقتدار میں’چلہ کلان‘ طاقت کا بھر پور مظاہرہ کرکے لوگوں کو گونا گوں مشکلات سے دوچار کردیتا ہے ۔
چلہ کلان لوگوں کو دوران شب ہی نہیں بلکہ دن کے وقت بھی شدید ترین سردی سے بچنے کیلئے گرم سے گرم لباس زیب تن کرنے اور گرمی کے تمام قدیم و جدید آلات استعمال کرنے پر مجبور کر دیتا ہے وہیں پانی کے ذخائر اور نلوں کو منجمد کرکے لوگوں کو پانی کی ایک ایک بوند کیلئے ترساتا ہے ۔
ادھر اہلیان وادی نے امسال بھی چلہ کلان کا مقابلہ کرنے کیلئے تمام تر تیاریوں کو حتمی شکل دے رکھی ہے جہاں لوگوں نے گھروں میں سوکھی سبزیوں اور دیگر اشیائے خوردنی کو اسٹاک کیا ہے وہیں ایندھن اور کانگڑیوں کو بھی گھروں میں تیار رکھا گیا ہے ۔
وادی میں اگرچہ گیس اور بجلی سے چلنے والے آلات گرمی کا بھی خوب استعمال کیا جاتا ہے لیکن اس کے باوجود بھی دیکھا جاتا ہے کہ شہر و گام میں کانگڑی کا کوئی نعم البدل نہیں ہے جو محتاج بجلی ہے نہ گیس، بلکہ ایندھن کی ایک دو مٹھیوں سے ایک آدمی کو شدید سردی سے اسی طرح حفاظت کرتی ہے جس طرح ایک ماں اپنے معصوم بچے کی۔
تاہم وادی میں امسال سخت سردیوں نے لوگوں کو چلہ کلاں کی آمد سے قبل ہی شدید مشکلات سے دوچار کر دیا۔
اہلیان وادی ہمیشہ سے ہی چلہ کلاں کے دور اقتدار سے خوف زدہ ہیں اور عصر حاضر میں جدید ترین سہولیات کے باجود بھی اس کے دبدبے میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے ۔
محمد علی نامی ایک عمر رسیدہ شخص نے یو این آئی کو بتایا’’میرے بچپن میں سہولیات نہیں تھی لہذا اس کا زیادہ اثر رہتا تھا، بھاری برف باری سے مکان گر جاتے تھے ، پانی کی شدید قلت پیدا ہوجاتی تھی، یہاں تک کھانے پینے میں بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا، اور رابطہ سڑکیں ہی کیا ہمسایہ کے گھر جانے کے لئے راستے بند ہوجاتی تھیں‘‘۔
انہوں نے کہا’’تاہم آج کے دور میں سہولیات ہیں، سڑکوں سے جلد ہی برف ہتایا جاتا ہے ، بجلی کو بھی کم سے کم وقت میں بحال کیا جاتا ہے اور گرمی کے بھی بھر پور انتظامات ہیں لیکن پھر بھی اس کا دبدبہ قائم ہے ‘‘۔
چلہ کلان کے اختتام کے بعد بیس روزہ چلہ خوردتخت نیشن ہوگا تاہم اس کی حکومت اس قدر سخت نہیں ہوتی ہے اس دور میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سردی کی شدت میں بتدیرج کمی واقع ہونے لگتی ہے تاہم اس دور میں بھاری برف باری کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔
اس دوران وادی کشمیر میں سخت سردیوں کے بیچ محکمہ موسمیات نے اگلے چوبیس گھنٹوں کے دوران برف و باراں کی پیش گوئی کی ہے جس سے جہاں ایک طرف طویل خشک موسمی صورتحال کے ختم ہونے کی توقع ہے وہیں فضائی آلودگی کی سطح بھی کم ہونے کا امکان ہے ۔
محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان کے مطابق وادی میں۲۰دسمبر کی شام سے۲۱دسمبر کی دوپہر تک پہاڑی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری جبکہ میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی بارشوں کا امکان ہے ۔
ترجمان نے کہا کہ۲۲دسمبر کو موسم عام طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے اور اس دوران کہیں کہیں ہلکی برف باری یا بارش ہوسکتی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ۲۳سے۲۹دسمبر تک موسم جزوی سے مجموعی طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے جبکہ۳۰اور۳۱دسمبر کو موسم عام طور پر ابر آلود رہنے کے ساتھ پہاڑی علاقوں میں کہیں کہیں ہلکی برف باری متوقع ہے ۔
محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں کہا ہے کہ کپوارہ، باںڈی پورہ اور گاندربل اضلاع کے پہاڑی علاقوں میں خاص طور پر ۲۱دسمبر کو درمیانی سے بھاری برف باری کا امکان ہے ۔ انہوں نے مسافروں اور ٹرانسپورٹروں سے کہا ہے کہ وہ ٹریفک پولیس اور انتظامیہ کی ایڈوازئریز کے مطابق اپنے سفر کا منصوبہ بنائیں۔
دریں اثنا وادی میں شبانہ درجہ حرارت مسلسل نقطہ انجماد سے نیچے درج ہونے سے سردیوں کا زور جاری ہے ۔
کشمیر ویدر کے مطابق گرمائی دارلحکومت سری نگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۴ء۰ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جہاں۲۸نومبر کو رواں موسم کی اب تک سرد ترین رات ریکارڈ ہوئی تھی جب کم سے کم درجہ حرارت منفی۵ء۴ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا تھا۔
وادی کے مشہور سیاحتی مقامات پہلگام اور گلمرگ میں کم سے کم درجہ حرارت بالترتیب منفی۰ء۱ڈگری سینٹی گریڈ اور ۰ء۲ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
شمالی ضلع کپوارہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۷ء۰ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ قصبہ قاضی گنڈ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی۰ء۱ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
وادی میں ضلع پلوامہ سب سے سرد علاقہ رہا ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی۲ء۳ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے جبکہ دوسرت درجے پر ضلع شوپیاں رہا ہے جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی۹ء۲ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
سری نگر ہوائی اڈے پر کم سے کم درجہ حرارت منفی۶ء۱ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ سونہ مرگ میں کم سے کم درجہ حرارت ۷ء۰ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
لداخ یونین ٹریٹری کے لیہہ اور کرگل اضلاع میں شبانہ درجہ حرارت بالترتین منفی۲ء۴ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ ہوا ہے ۔
دوسری جانب خراب موسمی صورتحال کی پیش گوئی کے پیش نظر حکام نے ٹنگمرگ گلمرگ روڈ پر ہفتہ کی صبح سے ٹریفک کی سخت پابندیوں کا اعلان کیا ہے ۔ان اقدامات کا مقصد مشہور سکی ریزورٹ کی طرف جانے والے پھسلن والے راستوں پر محفوظ سفر کو یقینی بنانا ہے ۔
حکام نے کہا کہ صرف ہیچ بیکس اور ایس یو ویز کو ہی گلمرگ ٹنگمرگ روڈ پر چلنے کی اجازت ہوگی جو اینٹی سکڈ چینز یا ۴x۴کی صلاحیت سے لیس ہیں۔
حکام نے کہا کہ تمام بسوں، ٹیمپو ٹریولرز اور بھاری گاڑیوں کو موسم کی صورتحال بہتر ہونے تک سڑک استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ دو پہیوں اور تین پہیوں والی گاڑیوں کو بھی سڑک پر سفر کرنے پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے ۔ٹریفک حکام کا کہنا ہے کہ اس روڈ پر حادثات سے بچنے کے لیے احتیاطی تدبیریں کی گئی ہیں۔۔
انہوں نے مسافروں پر زور دیا کہ وہ ایڈوائزری پر سختی سے عمل کریں، مطلوبہ حفاظتی سامان اپنے ساتھ رکھیں اور متوقع موسم کی خرابی کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔
واضح رہے کہ محکمہ موسمیات نے وادی میں۲۰دسمبر کی شام سے۲۱دسمبر کی دوپہر تک برف و باراں کی پیش گوئی کی ہے اور اس دوران کپوارہ، باںڈی پورہ اور گاندربل اضلاع کے پہاڑی علاقوں میں خاص طور پر۲۱دسمبر کو درمیانی سے بھاری برف باری کا امکان ہے ۔










