دہشت گردی کے خلاف جاری مہم میں ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے جموںکشمیر پولیس نے ضلع پلوامہ کے ایک ہائی پروفائل دہشت گردی کیس میں ملزم کو سزا دلوانے میں کامیابی حاصل کر لی ہے ۔
یہ سزا پولیس اسٹیشن پلوامہ میں درج ایف آئی آر نمبر۲۰۲۰/۲۸۹کے تحت سنائی گئی‘جس میں ملزم نے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے معزز عدالت کے روبرو اپنے جرم کا اعتراف کیا۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ کیس یکم دسمبر۲۰۲۰کو غیر قانونی سرگرمیاں (انسداد) ایکٹ (یو اے پی اے ) کی متعلقہ دفعات ‘ تعزیرات ہند کی دفعہ ۳۰۷؍اور آرمز ایکٹ کی دفعات۲۷/۷کے تحت درج کیا گیا تھا۔
سزا پانے والے ملزم کی شناخت ضمیر صادق لون ولد محمد صادق لون، ساکن ٹیکن بٹپورہ کے طور پر ہوئی ہے ، جسے یکم نومبر۲۰۲۱کو گرفتار کیا گیا تھا۔
تحقیقات کے دوران یہ بھی سامنے آیا کہ اس دہشت گردی کیس میں تین دیگر دہشت گرد بھی ملوث تھے ، جنہیں بعد ازاں سیکورٹی فورسز کے ساتھ مختلف کارروائیوں کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ اس طرح یہ کیس دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف ای جامع کارروائی کی مثال بن کر سامنے آیا۔
ابتدائی تحقیقات اس وقت کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس محمد شفیع نے انجام دیں، جبکہ بعد ازاں کیس کی مزید تفتیش اور چالان ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس شوکت رفیق نے پیش کیا۔ یہ مقدمہ۲۷؍اپریل ۲۰۲۲کو معزز این آئی اے عدالت میں درج کیا گیا، جہاں یکم جون۲۰۲۲کو ملزم کے خلاف باضابطہ الزامات طے کیے گئے ۔
مقدمے کی سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت نے ملزم کو چار سال اور چار ماہ قید کے ساتھ دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی۔ پولیس حکام کے مطابق یہ فیصلہ پیشہ ورانہ تفتیش، مضبوط شواہد اور استغاثہ کے ساتھ مؤثر تال میل کا نتیجہ ہے ۔
جموں و کشمیر پولیس نے اس کامیابی کو دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی کی واضح مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امن و امان کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف ہر کیس کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ پولیس نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لا کر عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
اس دوران دہلی کے پٹیالہ ہاؤس میں قومی تفتیشی ایجنسی (این آئی اے ) کی خصوصی عدالت نے جمعرات کے روز دہشت گردی کی سازش سے متعلق ہائی پروفائل کیس میں دو ملزمان کو مجرم قرار دیا۔
قصوروار ملزمان کی شناخت ظہور احمد پیر اور نذیر احمد پیر کے طور پر کی گئی ہے ، جنہیں انسداد غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے ) کی مختلف دفعات کے تحت قصوروار پایا گیا ہے ۔ عدالت اب۸جنوری کو ان کی سزا پر دلائل سنے گی۔
ان دونوں پر یو اے پی اے کی دفعہ۱۸ (سازش)‘۱۹(پناہ دینے ) اور۳۹(دہشت گرد تنظیم کی حمایت) کے تحت الزام عائد کیا گیا تھا۔
این آئی اے کے مطابق، انہوں نے پاکستانی دہشت گرد بہادر علی کو پناہ دینے اور اس کی حمایت کرنے اور دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کی سازش میں مدد کی تھی۔ اطلاعات کے مطابق بہادر علی حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں بدامنی پھیلانے کی نیت سے ہندوستان میں داخل ہوا تھا۔
ظہور احمد پیر پر ممنوعہ دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ کیلئے کام کرنے کا الزام تھا۔ اس نے جون اور جولائی۲۰۱۶ کے دوران دوسرے شریک ملزم کے ساتھ مل کر بہادر علی کو یہاما گاؤں، کپواڑہ، جموں و کشمیر میں کھانا اور محفوظ رہائش فراہم کی تھی۔
یہ معاملہ ہندوستان میں دہشت گردانہ حملے کرنے کی لشکر طیبہ کی بڑی سازش کا حصہ تھا، جس میں بہادر علی، دو ساتھیوں کے ساتھ غیر قانونی طور پر سرحد پار کرکے ہندوستان میں داخل ہوا تھا۔









