پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) نے بدھ کے روز حکمران نیشنل کانفرنس (این سی) پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پارٹی نے جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کی جدوجہد ترک کر دی ہے اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایجنڈے کے مطابق ریاستی درجہ اور بزنس رولز کے نفاذ کی راہ پر گامزن ہے ۔
پی ڈی پی کے سینئر رہنما وحید پرہ نے کہا کہ آرٹیکل۳۷۰کیلئے جدوجہد کرنے کا نیشنل کانفرنس کا دعویٰ اب بے نقاب ہو چکا ہے ۔
پرہ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ نیشنل کانفرنس نے نہ صرف۵؍اگست ۲۰۱۹کے اقدامات کو معمول بنانے کا عمل مکمل کر لیا ہے بلکہ بی جے پی کے ساتھ ایک مقدس اتحاد کو بھی مضبوط کر دیا ہے ۔
پی ڈی پی ممبر اسمبلی نے اپنی پوسٹ میں مزید کہا’’انتخابات کے دوران خصوصی حیثیت کی بحالی کے وعدوں سے لے کر اب صرف بزنس رولزکی درخواست تک، یہ ثابت ہو چکا ہے کہ آرٹیکل ۳۷۰کیلئے این سی کی جدوجہدمحض ایک دکھاوا تھی، جو اب ختم ہو چکا ہے ‘‘۔
اپوزیشن پارٹی کا یہ ردعمل اس میمورنڈم کے پس منظر میں سامنے آیا ہے جو منگل کے روز نیشنل کانفرنس کے تین راجیہ سبھا اراکین نے مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو پیش کیا تھا۔
اس میمورنڈم میں جموں و کشمیر کیلئے ریاستی درجہ کی بحالی، انتظامی امور کیلئے بزنس رولز کو نوٹیفائی کرنے اور مرکز کے زیر انتظام خطے سے باہر کی جیلوں میں قید قیدیوں کو واپس جموں و کشمیر منتقل کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
پی ڈی پی نے دعویٰ کیا ہے کہ این سی کے حالیہ اقدامات سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ پارٹی نے آرٹیکل۳۷۰ اور خصوصی حیثیت کی بحالی کے بنیادی موقف سے پسپائی اختیار کر لی ہے ، جس پر وادی کی سیاست میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔








