لیفٹیننٹ گورنر‘ جموں و کشمیر منوج سنہا نے بدھ کے روز کہا کہ وادی میں پھیلائے جا رہے تفریق پر مبنی ’اندرونی،بیرونی‘ بیانیے کو ختم ہونا چاہیے، کیونکہ اس طرح کی سوچ جموں و کشمیر کی ترقی کے عمل میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پہاڑوں، دشوار گزار علاقوں اور گھنے جنگلات میں چھپے دہشت گردوں کو جلد ختم کر دیا جائے گا۔
لیفٹیننٹ گورنر یہ بات آئی آئی ایم جموں میں منعقدہ اسٹریٹجک مینجمنٹ فورم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جس کا موضوع وِکست بھارت۲۰۴۷ کے ہدف کے حصول کیلئے پالیسی سازی اور اسٹریٹجک منصوبہ بندی تھا۔
تین روزہ اس کانفرنس کا اہتمام انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ (آئی آئی ایم) جموں نے اسٹریٹجک مینجمنٹ فورم (ایس ایم ایف) اور نیتی آیوگ کے اشتراک سے کیا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ’’اندرونی،بیرونی‘‘ جیسا تفریق پر مبنی بیانیہ ختم ہونا چاہیے۔’’ایسے بیانیے کو فروغ دینے والے عناصر ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں‘‘۔
سنہا نے اس بات کا اعادہ بھی کیا کہ پہاڑی علاقوں اور گھنے جنگلات میں چھپے دہشت گردوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور انہیں جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔
اپنے کلیدی خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے تیزی سے بدلتی عالمی صورتحال میں بھارت کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر روشنی ڈالی اور پالیسی سازوں و کاروباری رہنماؤں کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا۔
سنہا نے کہا’’ہماری توجہ معاشی استحکام، تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھاری سرمایہ کاری پر ہونی چاہیے۔ ڈیجیٹل ٹولز، عوامی شراکت پر مبنی حکمرانی، شفافیت، جوابدہی، منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل اور مؤثر عوامی خدمات ہمہ جہت ترقی کے لیے کلیدی عناصر ہوں گے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہمارے بزرگوں کے طے کردہ اصول، اقدار اور اچھی حکمرانی کے تصورات ہی ہمیں موجودہ چیلنجز سے نمٹنے اور ایک خوشحال مستقبل کی تعمیر میں رہنمائی فراہم کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ پالیسیاں عوام، صنعت، تجارت اور کاروبار کی ضروریات کے مطابق بنائی جانی چاہئیں اور یہ یقینی بنایا جانا چاہیے کہ ان کی آواز سنی جائے۔ ساتھ ہی صنعتی ترقی اور سماجی بہبود کے اقدامات کے درمیان توازن برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے۔
ایل جی نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ملک میں ہونے والی تیز رفتار ترقی بھارتی تاریخ میں بے مثال ہے۔
ان کاکہنا تھا’’جہاں بھی میں جاتا ہوں، یہ محسوس کرتا ہوں کہ ہمارا عظیم ملک ترقی اور خوشحالی کی سمت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ مینوفیکچرنگ اور سروس سیکٹر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جبکہ صنعت کاروں میں عالمی چیلنجز سے نمٹنے کا نیا اعتماد پیدا ہوا ہے۔ دیہی صنعتیں، ہینڈلوم اور ہینڈی کرافٹ سیکٹر بھی بہترین کے ساتھ مقابلہ کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم کی ’سودیشی‘ کی اپیل نے ان شعبوں کو نئی توانائی دی ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جامع اور منصفانہ ترقی وزیر اعظم کے وڑن کا بنیادی ستون ہے، اور حکومتی پالیسیاں روزگار کے مواقع پیدا کرنے، چھوٹے کاروباروں کی مدد، عوامی سرمایہ کاری میں اضافہ اور متوسط طبقے و کاروباری طبقے کو مالی طور پر بااختیار بنانے پر مرکوز ہیں، تاکہ ترقی کے فوائد ہر شہری تک پہنچ سکیں۔
سنہا نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ڈیجیٹل انڈیا اور ماڈرن انڈیا جیسے پروگراموں کے فوائد ترقی کی آخری سیڑھی پر کھڑے افراد تک پہنچائے جائیں گے۔انہوں نے کہا ’’غیر مرکزیت پر مبنی حکمرانی نے مثبت تبدیلیاں لائی ہیں، اور مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں کہ پالیسیاں صرف کاغذی نہ رہیں بلکہ اخلاقی بنیادوں پر مبنی، عوامی ضروریات سے ہم آہنگ اور عملی ہوں‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں و کشمیر کے کم استعمال شدہ معدنی شعبے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ اس میں آمدنی بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔’’جموں و کشمیر میں چونا پتھر، نیلم، لیتھیم اور دیگر معدنیات کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ اسٹریٹجک منصوبہ بندی کے ذریعے آئندہ پانچ سے سات برسوں میں سالانہ ۱۵ ہزار سے ۲۰ ہزار کروڑ روپے تک اضافی آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے‘‘۔
سنہا نے پن بجلی کے شعبے سے بھرپور استفادہ کرنے اور ہولسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام (ایچ اے ڈی پی) میں ضروری ترامیم کی بھی وکالت کی تاکہ یہ بدلتی معاشی ضروریات سے ہم آہنگ ہو سکے۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر نے بسوہلی پینٹنگ نمائش کا افتتاح بھی کیا۔ اس تقریب میں بسوہلی پینٹنگ ورکشاپ کے اختتامی اجلاس اور فنکاروں کی عزت افزائی بھی کی گئی۔
ایل جی نے کہا‘‘بسوہلی پینٹنگ ہمارا قیمتی فنّی ورثہ ہے، جو حال اور آنے والی نسلوں کیلئے بے حد اہمیت رکھتا ہے۔ میں آئی آئی ایم جموں اور اندرا گاندھی نیشنل سینٹر فار دی آرٹس کو اس منفرد اقدام پر مبارکباد دیتا ہوں۔‘‘










