جموں و کشمیر ہاؤسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ نے جمعرات کو تمام شہری مقامی اداروں (یو ایل بیز) کو ہدایت دی کہ وہ دو ہفتوں کے اندر اسکولوں، اسپتالوں، اسٹیڈیمز اور ٹرانسپورٹ ہبز کا نقشہ تیار کریں اور انہیں آوارہ کتوں کے داخلے سے محفوظ بنائیں۔
تین ماہ بعد لازمی معائنوں اور ان مقامات سے آوارہ کتوں کو انسانی بنیادوں پر اسے بی سی طریقہ کار کے ذریعے ہٹانے، اور۳۰ دن کے اندر تعمیل رپورٹ جمع کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔
محکمہ کی کمشنر سیکریٹری، مندیپ کور، نے ایک سرکیولر جاری کیا جس میں یونین ٹیریٹری کے تمام یو ایل بیز کو ہدایت دی گئی کہ وہ ادارہ جاتی علاقوں میں آوارہ کتوں کے مؤثر انتظام کے لیے سپریم کورٹ کی منظور شدہ اقدامات کو فوری طور پر نافذ کریں۔
سرکیولر میں دو ہفتوں کے اندر ایک ایسے عمل کی ہدایت دی گئی ہے جس میں تمام سرکاری و نجی اداروں…جن میں اسکول، کالج، اسپتال، اسٹیڈیم، بس اڈے‘آئی ایس بی ٹیز اور ریلوے اسٹیشن شامل ہیں‘کی نشاندہی کی جائے۔یو ایل بیز سے کہا گیا ہے کہ وہ تمام ہائی رسک علاقوں کو درجہ بند کریں، خصوصاً وہ جنہیں بچے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔
سرکیولر میں کہا گیا’’تمام شہری مقامی ادارے، متعلقہ ضلع مجسٹریٹس کے ساتھ تال میل میں، اس سرکیولر کے اجرا سے دو ہفتوں کے اندر اپنی حدود میں آنے والے تمام سرکاری اور نجی اداروں کی نشاندہی مکمل کریں گے‘‘۔
محکمہ نے یو ایل بیز کو ہدایت دی کہ وہ تمام شناخت شدہ اداروں کے انتظامی سربراہان کی مدد کریں تاکہ وہ فوری طور پر ضروری ساختی اور انتظامی اقدامات مکمل کر سکیں اور اپنے احاطے کو محفوظ بنا سکیں۔
سرکیولر میں کہا گیا’’تمام ادارے فوراً اپنے احاطوں کو محفوظ بنائیں، جس میں باڑ یا چار دیواری کی تعمیر یا مرمت، گیٹس کی تنصیب، اور آوارہ کتوں کے داخلے کو روکنے کے دیگر ساختی اقدامات شامل ہوں۔ محکموں کو۱۵ دسمبر تک بجٹ تخمینے جمع کرانے کی ہدایت دی گئی ہے، اور ضلع مجسٹریٹس ہر پندرہ روز میں پیش رفت کی نگرانی کریں گے‘‘۔
سرکیولر میں مزید کہا گیا کہ میونسپل حکام لازمی طور پر ہر تین ماہ بعد معائنہ کریں، تاکہ اداروں کے نزدیک آوارہ کتوں کی کوئی آبادی موجود نہ ہو۔
سرکیولر میں مزید کہا گیا’’آوارہ کتوں کو ہٹانے کا عمل انتہائی انسانی طریقے سے اور اے بی سی (اینیمل برتھ کنٹرول) رولز اور دیگر متعلقہ جانوروں کے فلاحی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔ ظالمانہ طریقے، اندھا دھند زہر دینا یا کسی بھی قسم کا غیر انسانی سلوک سختی سے ممنوع ہے اور سخت محکمانہ کارروائی کا باعث بنے گا‘‘۔
یو ایل بیز کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر اٹھائے گئے اور چھوڑے گئے کتے کی تفصیلات ڈیجیٹل طور پر ریکارڈ کریں۔
محکمہ نے جموں اور سرینگر میونسپل کارپوریشنز کے کمشنرز اور کشمیر و جموں خطوں کے یو ایل بیز ڈائریکٹرز کو ہدایت دی ہے کہ وہ ۳۰دن کے اندر تفصیلی تعمیل رپورٹ جمع کرائیں۔
سرکیولر نے خبردار کیا’’کسی قسم کی تاخیر یا عدم تعمیل پر محکمانہ کارروائی ہوگی۔‘‘ (ایجنسیاں)










