نئی دہلی، 5 دسمبر (یواین آئی) اتراکھنڈ میں تیندوؤں اور ریچھوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے جمعہ کو لوک سبھا میں مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ماہرین کی ٹیمیں بھیجی جائیں، حملوں کی وجوہات کی جانچ کی جائے اور حملہ آور جنگلی جانوروں کو پکڑنے کے لیے خصوصی پنجروں کا انتظام کیا جائے ۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کے انیل بلّونی نے وقفئہ صفر میں یہ معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ اتراکھنڈ کے پہاڑی علاقوں میں گزشتہ دنوں تیندوؤں کے حملوں میں تین افراد کی موت ہو چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریچھوں کے حملے بھی اچانک بڑھ گئے ہیں۔ ان کے مطابق شیر کے خوف سے شام ہوتے ہی پہاڑی علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال ہو جاتی ہے ۔ جنگلی جانوروں کے ڈر سے لوگوں نے بچوں کو اسکول بھیجنا بھی بند کر دیا ہے کیونکہ شیر بچوں کو آسان شکار سمجھ کر اکثر ان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
مسٹر بلونی نے وزارتِ جنگلات سے مطالبہ کیا کہ حملہ آور جنگلی جانوروں کو پکڑنے کے لیے محکمہ جنگلات کو نئے پنجرے فراہم کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو فوری طور پر ماہرین کی ٹیمیں بھیج کر معلوم کرنا چاہیے کہ آخر حالیہ دنوں میں جنگلی جانوروں کے حملے کیوں بڑھ گئے ہیں۔ ایوان میں موجود ماحولیات و جنگلات کے وزیرِ بھوپندر یادو سے انہوں نے درخواست کی کہ وہ فوری ماہرین کی ٹیم بھیج کر اس مسئلے کے اسباب کی جانچ کرائیں اور ریاستی حکومت کے ساتھ مل کر اس بحران کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت دیں۔
سماج وادی پارٹی کے لکشمی کانت نشاد نے کارپوریشن کے ملازمین کو ملنے والی پنشن کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ان ملازمین کو بہت کم پنشن دی جا رہی ہے ۔ حکومت کو چاہیے کہ ٹرانسپورٹ کارپوریشن اور دیگر کارپوریشنوں کے ملازمین کو بھی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح مناسب پنشن دی جائے ۔
کانگریس کی منی بین نگاجی ٹھاکرے نے کسانوں کو یوریا کھاد کی کمی کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ اس کی وجہ سے ان کے علاقے میں کسانوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ کسانوں کو مناسب مقدار میں یوریا فراہم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ کھاد کے لیے کسانوں کو غیر ضروری پریشانی نہ اٹھانی پڑے ۔
کانگریس کے ہی سالینگ اے سنگما نے کہا کہ ایچ آئی وی کے علاج اور اس بیماری میں مبتلا لوگوں کو اسپتالوں میں مناسب سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس بیماری سے متاثرہ افراد کی باز آباد کاری کے لیے حکومت کو ہر ضلع میں دو یا تین باز آبادکاری کے مراکز قائم کرنے چاہئیں۔








