سرینگر/۵ دسمبر
حکومت سے زیرِ التواء عمر میں رعایت کی تجویز پر واضح رابطے کا مطالبہ کرتے ہوئے جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (جے کے اے ایس ) کے ابتدائی(پریلمز) امتحان میں صرف ایک دن باقی رہ جانے کے ساتھ، جموں کے مہاراجہ ہری سنگھ پارک میں درجنوں امیدوار اپنی بھوک ہڑتال جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تقریباً تیس تا ۴۰؍ امیدوار گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاج کر رہے ہیں، ٹھنڈی راتوں کا مقابلہ کرتے ہوئے، جیسا کہ انہوں نے انتظامیہ کی جانب سے مکمل خاموشی قرار دیا ہے کہ آیا۷ دسمبر کے امتحان سے پہلے اوپری عمر کی حد میں تجویز کردہ رعایت منظور ہوگی یا نہیں۔
ایک احتجاجی امیدوار نے ایک مقامی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ طلبہ خود کو ’تنہا اور مایوس‘ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ نہ تو امتحان ملتوی ہوا ہے اور نہ ہی اس بات پر کوئی سرکاری بیان جاری ہوا ہے کہ عمر میں رعایت کی فائل منظور ہوئی ہے یا نہیں۔
امیدواروں کے مطابق، عمر میں رعایت کا مسئلہ جموں و کشمیر بھر کے ہزاروں امیدواروں کو متاثر کرتا ہے، جن میں تقریباً ۱۹ ہزار وہ بھی شامل ہیں جن کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ موجودہ اوپری عمر کی حد سے باہر ہو چکے ہیں بھرتیوں میں تاخیر اور باقاعدہ پبلک سروس کمیشن امتحانی کیلنڈر کی عدم موجودگی کی وجہ سے۔
ایک امیدوار نے کہا’’دیگر ریاستوں میں اوپن میرٹ کے لیے اوپری عمر کی حد ۴۰تک ہوتی ہے۔ یہاں بہت سے امیدوار ۳۲ سے بھی آگے نہیں جا پاتے، اور دس سال میں پانچ امتحانات ہونے تک ہم میں سے زیادہ تر اوور ایج ہو جاتے ہیں‘‘۔
امیدواروں نے کہا کہ اس بات پر وسیع ابہام ہے کہ تجویز اس وقت کہاں ہے۔ان کاکہنا تھا’’کچھ اہلکار کہتے ہیں کہ فائل سیکریٹری کے پاس ہے، دوسرے کہتے ہیں کہ یہ ایل جی کے دفتر میں ہے۔ کوئی واضح جواب نہیں دے رہا۔ ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ فیصلہ آئے گا یا نہیں‘‘۔
انہوں نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف نے ایک طلبہ وفد کو بتایا تھا کہ وہ ایل جی سے بات کریں گے تاکہ تجویز اس وقت منظور ہو جائے جب انتظامیہ کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کا جواب دے دیا جائے۔’’لیکن آج بھی کوئی ٹھوس بات نہیں کہی گئی‘‘۔
امتحان اتوار۷ دسمبر کو مقرر ہے، امیدواروں نے کہا کہ وہ تیاری کے دباؤ اور اپنی اہلیت کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کے درمیان پھنس چکے ہیں۔’’کم از کم ہمیں حتمی فیصلہ تو بتا دیں۔ امتحان میں ایک دن رہ گیا ہے۔ ہم اس لیے احتجاج کر رہے ہیں کیونکہ ہمیں معلوم ہی نہیں کہ فائل کہاں ہے یا حکومت کا ارادہ کیا ہے۔
امیدواروں نے ایل جی انتظامیہ اور پبلک سروس کمیشن سے فوری بیان جاری کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ ابہام ختم ہو اور امیدوار مزید ذہنی دباؤ سے بچ سکیں۔
اس اشو پر سیاسی جماعتوں نے بھی اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری فیصلے کی مانگ کی ہے ۔
جموںکشمیر کانگریس کے سربراہ ‘طارق حمید قرہ نے ایکس پر ایک بیان میں کہا’’وزیراعلیٰ دفتر اور ایل جی دفتر کو ہمارے سول سروس امیدواروں کے جائز خدشات فوری طور پر حل کرنے چاہئیں۔ نوجوانوں میں پھیلی بے چینی، ذہنی دباؤ اور ابہام جموں و کشمیر میں دوہری طرزِ حکمرانی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔ امتحان ملتوی ہونا چاہیے اور عمر میں رعایت پر غور کیا جانا چاہیے۔ ہمارے نوجوان ذہنوں کو وضاحت، انصاف اور ایک ایسا نظام چاہیے جو ان کی امنگوں کی حمایت کرے، نہ کہ انہیں مزید الجھن میں ڈالے‘‘۔
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی(پی ڈی پی) کے رہنما اور ایم ایل اے وحید الرحمن پرہ نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی کہ وہ امیدواروں کے لیے اوپری عمر کی حد میں اضافہ کرنے کی انتظامیہ کی تجویز کو فوری طور پر منظوری دیں۔
پرہ نے کہا کہ امتحان سے صرف دو دن قبل کسی بھی بروقت منظوری سے ہزاروں نوجوان امیدواروں کے لیے انصاف اور ہمدردی ظاہر ہوگی، جنہیں ان کی تعلیمی اور پیشہ ورانہ زندگی میں بار بار رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
ایل جی کو لکھے گئے خط میں پرہ نے کہا کہ انتظامیہ پہلے ہی عمر میں رعایت کی رسمی تجویز آگے بھیج چکی ہے، ان امیدواروں کیلئے’’جنہوں نے اپنے کنٹرول سے باہر حالات کے باعث تیاری کے قیمتی سال کھو دیے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کئی وزراء نے عوامی طور پر بتایا ہے کہ تجویز تمام طریقہ کار مکمل کر چکی ہے اور اب صرف ایل جی کی منظوری درکار ہے۔
ان کامزید کہنا تھا’’تاہم، راج بھون کی جانب سے ابھی تک کوئی حتمی بات سامنے نہیں آئی۔اس طویل خاموشی نے امیدواروں میں بے چینی اور گہری تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ وہ امتحان سے عین پہلے اپنی اہلیت کے بارے میں غیر یقینی صورتحال میں ہیں‘‘۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی نے لکھا’’اس وسیع پیمانے پر حمایت یافتہ مطالبے میں مزید تاخیر یا اس کی تردید نوجوانوں میں احساسِ محرومی کو مزید بڑھا سکتی ہے، ایسے وقت میں جب اداروں پر اعتماد کی بحالی نہایت ضروری ہے‘‘۔
پرہ نے کہا کہ امتحان سے پہلے رعایت دینے سے امیدواروں کو یہ یقین دلایا جا سکتا ہے کہ انتظامیہ ان کے چیلنجوں کو تسلیم کرتی ہے اور ایک اہم مرحلے پر ان کے ساتھ کھڑی ہے۔انہوں نے ایل جی سے اپیل کی کہ وہ تجویز کو فوری منظوری دیں تاکہ امیدوار’’اعتماد کے ساتھ امتحان دیں‘نہ کہ ابہام کے ساتھ۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔ندائے مشرق خبر










