سرینگر/۵دسمبر
نیشنل کانفرنس(این سی )کے صدر اور سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی کارکنوں پر زور دیا کہ وہ اندرونی اختلافات سے گریز کریں اور اگلے انتخابات سے قبل تنظیم کو مضبوط بنانے پر توجہ دیں۔
این سی صدر نے کہا کہ پارٹی کارکنوں کے بار بار عوامی بیانات تنظیم کیلئے مددگار ثابت نہیں ہورہے ہیں۔
ڈاکٹر فاروق نے ان باتوں کا اظہار جمعہ کو یہاں نیشنل کانفرنس کے بانی شیخ محمد عبداللہ کی۱۲۰ویں یوم پیدائش پر پارٹی کارکنوں سے خطاب کے دوران کیا۔
حکمران جماعت کے سربراہ نے کارکنوں سے مخاطب ہوکر کہا’’بیانات نہ دیں، اس کے بجائے پارٹی کو مستحکم کریں، ہر کوئی بیان دے رہا ہے لیکن کوئی بھی معاملے کو سمجھ نہیں رہا ہے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’مخالفین پارٹی کو کمزور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن ہمیں ڈرنا نہیں ہے بلکہ متحد ہوکر پارٹی کو مضبوط بنانا ہے ‘‘۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا’’سننے میں آیا کہ خفیہ طور باتیں ہو رہی ہیں کہ پارٹی میں کون ہے اور کس کو کون سا عہدہ ملے گا یہ ٹھیک نہیں ہے ، اپنے ہی پارٹی کے خلاف باتیں کرتے ہیں‘‘۔
این سی صدر نے کہا’’کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ حکومت نے ایک سال میں کیا کیا یہاں تک اپنے لوگ بھی ایسا کہتے ہیں، لیکن ایک سال میں کتنا کیا جا سکتا ہے جب کئی اختیارات لیفٹیننٹ گورنر کے پاس ہیں‘‘۔
ان کا کہنا ہے کہ حکومت اور ارکان اسمبلی عوامی مسائل کو حل کرنے کیلئے کام کر رہے ہیں۔
صدر نیشنل کانفرنس نے کہا کہ حال ہی میں لئے جانے والے کئی تنظیمی فیصلوں کا مقصد پارٹی کو مضبوط کرنا تھا۔
انہوں نے کہا’’ہمیں تنظیم میں نوجوان رہنماؤں کو آگے لانے کی ضرورت ہے ۔ نوجوان پارٹی کی قیادت کریں اور کارواں کو آگے لے کر جائیں۔ آنے والے انتخابات میں خواتین کارکنوں اور لیڈروں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کو بھی آگے آنا چاہیے ‘‘۔
حکمران جماعت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ پارٹی اگلے چار سالوں میں اپنے وعدے پورا کرے گی،ضرورت ہے اتحاد کی۔
شیخ محمد عبداللہ کی میراث پر روشنی ڈالتے ہوئے ، ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ یہ دن بے آواز لوگوں کو بااختیار بنانے کے شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ کے تاحیات مشن کی یاد دہانی کے طور پر کام کرتا ہے ۔
این سی صدر نے کہا’’آج ہم جو ترقی دیکھ رہے ہیں وہ شیخ صاحب کی بصیرت اور ہمت کا نتیجہ ہے ۔ ان کی سیاست کی جڑیں خدمت، شفقت اور انصاف پر مبنی تھی‘‘۔










