وزیر اعظم مودی اور روسی صدر پیو ٹن کی باہمی ملاقات میں دہشت گردی اور یوکرین میں جاری جنگ پر بھی تبادلہ خیال
سرینگر/۵دسمبر
بھارت اور روس نے جمعہ کو اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کرنے کیلئے پانچ سالہ منصوبہ طے کیا، ایسے وقت میں جب واشنگٹن ڈی سی کی جانب سے عائد تعزیری ٹیریف اور پابندیوں کا دباؤ جاری ہے۔ اسی دوران وزیرِاعظم نریندر مودی نے صدر ولادیمیر پیوٹن کو بتایا کہ یوکرین میں جنگ کو پْرامن طریقے سے ختم کیا جانا چاہیے۔
ان کی سربراہی ملاقات، جس نے عالمی توجہ حاصل کی، کے بعد مودی اور پیوٹن نے آٹھ دہائی پرانی بھارت،روس دوستی کو نئی رفتار دینے کی خواہش ظاہر کی۔ وزیرِاعظم نے کہا کہ جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے باوجود یہ دوستی ’قطبی ستارے‘ کی طرح مستحکم رہی ہے۔
۲۰۳۰ کا اقتصادی پروگرام حتمی شکل دینے کے علاوہ دونوں ملکوں نے صحت، نقل و حرکت و ہجرت، فوڈ سیفٹی، شپنگ اور عوامی سطح کے تبادلے سمیت کئی شعبوں میں تعاون بڑھانے کے لیے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے۔
روسی صدر گزشتہ شام دہلی پہنچے، جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا۔ وزیرِاعظم مودی نے خود ایئرپورٹ پر ان کا خیرمقدم کیا اور بعد میں ان کے اعزاز میں ایک نجی عشائیہ دیا، جس نے۲۳ویں بھارت،روس سالانہ سربراہی اجلاس کی فضا قائم کی۔
یہ دورہ مغربی ملکوں کے دارالحکومتوں میں خاص توجہ کا باعث بنا ہے کیونکہ انہوں نے ماسکو پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کی کوششوں کے تحت روسی تیل کی سپلائی کاٹنے جیسے اقدامات کیے ہیں تاکہ اسے یوکرین جنگ ختم کرنے پر مجبور کیا جائے۔
اپنے میڈیا بیان میں مودی نے کہا’’دنیا نے گزشتہ آٹھ دہائیوں میں کئی اتار چڑھاؤ دیکھے۔ انسانیت نے بے شمار چیلنجوں اور بحرانوں کا سامنا کیا۔ اور ان سب کے دوران بھارت،روس دوستی ایک قطبی ستارے کی طرح قائم رہی‘‘۔
وزیر اعظم نے مزید کہا’’یہ رشتہ باہمی احترام اور گہرے اعتماد پر قائم ہے اور ہمیشہ وقت کی آزمائش پر پورا اترا ہے۔ آج ہم نے تعاون کے تمام پہلوؤں پر گفتگو کی تاکہ اس بنیاد کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔ اقتصادی تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہماری مشترکہ ترجیح ہے‘‘۔
اس مقصد کے حصول کے لیے مودی نے کہا کہ دونوں ممالک نے۲۰۳۰ تک اقتصادی تعاون کے پروگرام پر اتفاق کیا ہے، جو دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو زیادہ متنوع، متوازن اور پائیدار بنائے گا۔
وزیرِاعظم نے اعلان کیا کہ بھارت جلد ہی روسی شہریوں کے لیے۳۰ روزہ مفت ای ٹورسٹ ویزا اور ۳۰ روزہ گروپ ٹورسٹ ویزا متعارف کرائے گا۔
اپنے بیان میں پیوٹن نے کہا کہ دونوں ملک سالانہ تجارت کو موجودہ۶۴؍ ارب ڈالر سے بڑھا کر ۱۰۰؍ ارب ڈالر تک لے جانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روس ‘‘تیل، گیس، کوئلہ اور وہ سب کچھ جس کی بھارت کی توانائی ضروریات کے لیے ضرورت ہے’’ فراہم کرنے والا قابلِ اعتماد ملک ہے۔
پیوٹن نے کہا کہ روس بھارت کو ایندھن کی بلا تعطل فراہمی جاری رکھنے کیلئے تیار ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ماسکو بھارتی مصنوعات کے لیے اپنی مارکیٹ میں مزید رسائی دے گا اور دونوں ملک چھوٹے اور ماڈیولر نیوکلیئر ری ایکٹرز اور فلوٹنگ نیوکلیئر پاور پلانٹس کی تعمیر میں تعاون کے خواہاں ہیں۔
مودی نے کہا کہ توانائی کی سلامتی بھارت،روس شراکت داری کا ایک مضبوط ستون ہے اور سول نیوکلیئر توانائی میں تعاون بہت اہم ہے۔انہوں نے کہا’’ہم یہ باہمی فائدہ مند تعاون جاری رکھیں گے‘‘۔
وزیرا عظم نے کہا کہ اہم معدنیات میں تعاون دنیا بھر میں محفوظ اور متنوع سپلائی چینز یقینی بنانے کیلئے نہایت ضروری ہے۔ان کاکہنا تھا ’’یہ صاف توانائی، ہائی ٹیک مینوفیکچرنگ اور نئی صنعتوں میں ہماری شراکت داری کو مضبوط سہارا فراہم کرے گا‘‘۔
یوکرین جنگ بھی مذاکرات میں نمایاں موضوع رہی، اور مودی نے کہا کہ بھارت نے ہمیشہ وہاں امن کی وکالت کی ہے۔’’ہم اس مسئلے کے پْرامن اور دیرپا حل کے تمام اقدامات کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ بھارت ہمیشہ مدد کے لیے تیار رہا ہے اور رہے گا‘‘۔
دہشت گردی سے مؤثر طور پر نمٹنے کے طریقے بھی گفتگو کا حصہ تھے۔وزیر اعظم نے کہا’’بھارت اور روس نے دہشت گردی کے خلاف کندھے سے کندھا ملا کر کام کیا ہے۔ چاہے پہلگام کا دہشت گرد حملہ ہو یا کروکس سٹی ہال پر بزدلانہ حملہ…ان سب واقعات کی جڑ ایک ہی ہے‘‘۔مودی نے کہا’’بھارت کا پختہ یقین ہے کہ دہشت گردی انسانیت کی اقدار پر براہ راست حملہ ہے اور اس کے خلاف عالمی اتحاد ہماری سب سے بڑی طاقت ہے‘‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان کنیکٹیویٹی بڑھانا ایک اہم ترجیح ہے۔ان کاکہنا تھا’’ہم آئی این ایس ٹی سی، نادرن سی روٹ، اور چنئی،ولادی ووستوک کاریڈورز پر نئی توانائی کے ساتھ آگے بڑھیں گے۔ مجھے خوشی ہے کہ اب ہم بھارتی سمندری اہلکاروں کو قطبی سمندروں میں تربیت دینے میں تعاون کریں گے‘‘۔انہوں نے کہا’’یہ نہ صرف آرکٹک میں ہمارے تعاون کو مضبوط کرے گا بلکہ بھارت کی نوجوان نسل کیلئے نئی روزگار کے مواقع بھی پیدا کرے گا‘‘۔
انٹرنیشنل نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کاریڈور ایک ۷۲۰۰ کلومیٹر طویل ملٹی موڈ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ ہے جو بھارت، ایران، افغانستان، آرمینیا، آذربائیجان، روس، وسطی ایشیا اور یورپ کے درمیان سامان کی ترسیل کے لیے بنایا گیا ہے۔
مودی نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان شپ بلڈنگ میں گہرا تعاون ’میک اِن انڈیا‘پروگرام کو مضبوط کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔انہوں نے پیوٹن کی ‘‘غیر متزلزل وابستگی’’ کی تعریف کی، جو بھارت،روس تعلقات کو مضبوط کرنے میں نمایاں رہی ہے۔’’گزشتہ ڈھائی دہائیوں سے انہوں نے اپنی قیادت اور وڑن کے ذریعے ان تعلقات کو پروان چڑھایا ہے۔ ہر صورتحال میں ان کی قیادت نے ہمارے تعلقات کو نئی بلندیوں پر پہنچایا ہے‘‘۔
وزیرِاعظم نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان افرادی قوت کی نقل و حرکت بڑھانے کے لیے دو معاہدوں پر بھی دستخط ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا ’’افرادی قوت کی نقل و حرکت ہمارے لوگوں کو ایک دوسرے سے جوڑے گی اور دونوں ملکوں کے لیے نئی صلاحیتیں اور مواقع پیدا کرے گی۔ مجھے خوشی ہے کہ آج اس سلسلے میں دو معاہدوں پر دستخط ہوئے ہیں‘‘۔
اپنے میڈیا بیان میں پیوٹن نے کہا کہ دونوں ملکوں نے سلامتی، معیشت، تجارت اور ثقافت کے شعبوں میں تعاون کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا’’ہم سالانہ دوطرفہ تجارت کو۱۰۰؍ ارب ڈالر تک بڑھانے کے خواہاں ہیں‘‘۔
پیوٹن نے کہا کہ روس نئی دہلی کے ساتھ توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے، اور ان کا ملک بھارت کو بلا تعطل ایندھن کی فراہمی کے لیے تیار ہے۔انہوں نے مزید کہا’’ہم چھوٹے ماڈیولر نیوکلیئر ری ایکٹرز اور فلوٹنگ نیوکلیئر پاور پلانٹس کی تعمیر میں تعاون پر بھی بات کر سکتے ہیں‘‘۔
روس کے صدر نے کہا کہ روس، بھارت اور دیگر ہم خیال ممالک ایک منصفانہ اور کثیر قطبی دنیا کی تشکیل کی سمت کام کر رہے ہیں۔(ندائے مشرق ڈیسک)










