کٹرا/جموں/۵ دسمبر
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جمعہ کو کہا کہ تعلیم میں میرٹ کو نظرانداز کرنا اور مذہب کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم کا مطالبہ غلط ہے اور یہ جموں و کشمیر اور پورے ملک کے سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچائے گا۔
یہ سیاسی تنازعہ اس وقت پیدا ہوا جب سری ماتا ویشنودیوی میڈیکل کالج نے اس ماہ کے اوائل میں نیٹ میرٹ لسٹ کے ذریعے داخلے مکمل کیے، اور کالج نے ۵۰ رکنی ایم بی بی ایس کے پہلے بیچ کیلئے ۴۲ مسلم طلبہ کو داخلہ دیا، جن میں سے زیادہ تر کا تعلق کشمیر سے تھا۔ اس کے علاوہ، جموں کے سات ہندو طلبہ اور ایک سکھ کو داخلہ ملا۔
جموںکشمیر بورڈ آف پروفیشنل انٹرنس ایگزامینیشنز (جے کے بی او پی ای ای) نے ان طلبہ کو جموں کے کٹرا علاقے میں سری ماتا ویشنودیوی شرائن بورڈ کے زیر انتظام اس میڈیکل کالج میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا۔
محبوبہ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا’’تعلیم میں میرٹ کو نظرانداز کرنا اور مذہب کی بنیاد پر نشستوں کی تقسیم کا مطالبہ بہت غلط ہے۔ ایسی چیزیں نہیں ہونی چاہئیں۔یہ نہ صرف جموں و کشمیر کے ماحول کو خراب کریں گی بلکہ پورے ملک کو متاثر کریں گی۔ اگر یہ یہاں شروع ہوا تو یہ دیگر حصوں تک بھی پھیل جائے گا‘‘۔
پی ڈی پی صدر، جو سری نگر سے وندے بھارت ٹرین کے ذریعے کٹرا ایک تقریب میں شرکت کے لیے پہنچی تھیں، نے کہا کہ مذہبی بنیاد پر نشستوں کی الاٹمنٹ کے مطالبے کو قبول نہیں کیا جانا چاہیے۔
سابق وزیر اعلیٰ نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ جب ماتا ویشنودیوی اور بابا غلام شاہ یونیورسٹیوں کی تجویز پیش کی گئی تھی تو مقامی نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے اور خطے کے باہر سے طلبہ کو راغب کرنے کے تصور کے ساتھ زمین الاٹ کی گئی تھی۔
محبوبہ نے کہا’’خیال سادہ تھا … جس کے پاس میرٹ ہو گا وہ داخلہ پائے گا۔ ماتا ویشنودیوی یونیورسٹی اچھی کارکردگی دکھا رہی ہے، جبکہ بابا غلام شاہ یونیورسٹی کو کچھ مشکلات درپیش ہیں‘‘۔داخلوں پر جاری تنازعے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا’’یہ مکمل طور پر غلط ہے۔جموں و کشمیر سب کا ہے۔ جموں ہمیشہ اس جگہ کے طور پر جانا جاتا رہا ہے جہاں شیر اور بکری ایک ہی دریا سے پانی پی سکتے ہیں‘‘۔
محبوبہ نے کہا کہ مسلمان اس ملک میں رہنے کا انتخاب کر چکے ہیں اور انہوں نے تقسیم پیدا کرنے والے مسائل پر تشویش ظاہر کی۔
کئی تنظیموں نے جموں اور دیگر مقامات پر اس میڈیکل کالج میں مسلم طلبہ کی اکثریت کو ایم بی بی ایس نشستیں دیے جانے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ وہ الزام لگا رہے ہیں کہ اس تعلیمی ادارے کے خلاف ایک بڑی سازش ہے اور تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
اپنے دورے کے بارے میں پوچھے جانے پر محبوبہ نے کہا کہ وندے بھارت ٹرین میں سفر کرنا ایک اچھا تجربہ تھا۔انہوں نے کہا’’یہ ایک خوبصورت سفر تھا۔ کٹرا ماتا ویشنودیوی کا آستانہ ہے۔ میں اپنے کالج کے دنوں میں بھی یہاں آتی تھی۔ایجنسیز‘‘










