سرینگر/۳دسمبر
روس کی صدارتی سکیورٹی سروس کے انتہائی تربیت یافتہ اہلکار، بھارت کے نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی) کے اعلیٰ کمانڈوز، اسنائپرز، ڈرونز، جیمرز اور اے آئی مانیٹرنگ ‘ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے دورہ ٔ بھارت سے قبل پانچ پرتوں پر مشتمل سکیورٹی حصار تیار کیا گیا ہے۔
پیوٹن، جو وزیر اعظم نریندر مودی کی دعوت پر بھارت،روس سالانہ سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بھارت آ رہے ہیں، جمعرات کی شام دہلی پہنچنے کی توقع ہے۔
این ڈی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ روسی صدر وزیر اعظم کے ساتھ عشائیہ کریں گے۔ اگلے دن انہیں راشٹرپتی بھون میں رسمی استقبالیہ دیا جائے گا۔ جمعے کو بعد میں وہ راج گھاٹ میں مہاتما گاندھی کی یادگار پر جائیں گے۔ اس کے بعد وہ حیدرآباد ہاؤس میں سربراہ اجلاس اور بھارت منڈپم میں ایک تقریب میں شرکت کریں گے۔ وہ راشٹرپتی بھون میں صدر دروپدی مرمو کی جانب سے دیے گئے ضیافت میں بھی شامل ہوں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایکشن سے بھرپور مصروف پروگرام کے دوران اعلیٰ سکیورٹی یقینی بنانے کے لیے روس کے چار درجن سے زیادہ اعلیٰ سکیورٹی اہلکار پہلے ہی دہلی پہنچ چکے ہیں۔
دہلی پولیس اور این ایس جی کے حکام کے ساتھ مل کر یہ اہلکار روسی صدر کے قافلے کے گزرنے والے ہر راستے کو صاف اور محفوظ بنا رہے ہیں۔ خصوصی ڈرونز اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صدر کی سکیورٹی کے لیے قائم کنٹرول روم کو ہر وقت ان کے قافلے کا مکمل نظارہ حاصل رہے۔
صدر کی نقل و حرکت کے راستے کو کئی اسنائپرز بھی کور کریں گے۔ جیمرز، اے آئی مانیٹرنگ اور فیشل ریکگنیشن کیمرے پیوٹن کی سکیورٹی کے لیے بڑے پیمانے پر تعینات ٹیکنالوجی کا حصہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق، پانچ تہوں پر مشتمل سکیورٹی حصار کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، اور پیوٹن کے لینڈ کرتے ہی یہ سب فعال ہو جائیں گے۔ سکیورٹی میں شامل ہر اہلکار مسلسل کنٹرول روم کے رابطے میں رہے گا۔
این ایس جی اور دہلی پولیس کے افسر باہری حصار کا حصہ ہوں گے، جبکہ روسی صدارتی سکیورٹی اندرونی حصار سنبھالے گی۔ جب روسی صدر وزیر اعظم مودی کے ساتھ ہوں گے تو بھارت کے اسپیشل پروٹیکشن گروپ (ایس پی جی) کے کمانڈوز ‘جو وزیر اعظم کی سکیورٹی کرتے ہیں ‘ بھی اندرونی حصار میں شامل ہو جائیں گے۔
جس ہوٹل میں پیوٹن قیام کریں گے اسے بھی مکمل طور پر چیک اور سینیٹائز کیا گیا ہے۔ روسی سکیورٹی اہلکار ان تمام مقامات پر چیکنگ کر رہے ہیں جہاں پیوٹن کے جانے کا شیڈول ہے۔ اس کے علاوہ، ممکنہ غیر شیڈول مقامات کی فہرست بھی تیار کی گئی ہے، اور ان علاقوں کو بھی اسکین کیا جا رہا ہے۔
پیوٹن کی سکیورٹی کا ایک بڑا نمایاں پہلو Aurus Senat ہے … ایک انتہائی بکتر بند لگڑری لیموزین جسے روسی صدر استعمال کرتے ہیں۔ یہ سیناٹ پیوٹن کے دورہ ٔ بھارت کے لیے ماسکو سے خصوصی طور پر منگوائی جا رہی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روسی صدر نے اسی سال چین میں ایس سی او سربراہ اجلاس کے دوران وزیر اعظم مودی کے ساتھ اسی سیناٹ میں سفر کیا تھا۔
اکثر’پہیّوں پر قلعہ‘ کہی جانے والی سیناٹ ایک فل سائز لگڑری لیموزین ہے جسے روسی آٹو میکرنے تیار کیا ہے۔۲۰۱۸ میں متعارف کرائی گئی سیناٹ پیوٹن کی سرکاری ریاستی کار ہے اور’کورتیڑ‘ منصوبے کا حصہ ہے ‘ جو روسی حکومت کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ لگڑری اور بکتر بند گاڑیوں کی تیاری کا پروگرام ہے۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










