’نامعلوم‘ … لفظ ’نامعلوم ‘سے ہم سب واقف ہیں… ہم اسے سنتے آئے ہیں … ۳۵ سالوں سے ۔یہ ہمیں ‘ ہم کشمیریوں کو جانتا ہے‘ اچھی طرح جانتا ہے، لیکن ہم… ہم کشمیریوں میں سے کوئی یہ دعویٰ نہیں کر سکتا ہے… اور بالکل بھی نہیں کر سکتا ہے کہ ہم اسے جانتے ہیں… اسے پہنچانتے ہیں… اس لئے ’نا معلوم‘… ہمارے لئے آج بھی ’نامعلوم‘ ہی ہے … اور شاید یہ ہمیشہ ’نا معلوم‘ ہی رہے گا … گرچہ اس’ نامعلوم‘ کے کھاتے میں ایسے ایسے کا رنامے درج ہیں کہ انہیں یاد کرتے ہی پورے بدن میں تھرتھراہٹ ہو تی ہے… پورا وجود ہی لرز جاتا ہے۔خیر! پُر امن کشمیر میں اب ایسی باتیں … توبہ ،اللہ میاں ہماری توبہ …توبہ اس لئے کہ کہنے والوں کا کہنا ہے کہ کشمیر میں آج امن ہے … اس لئے ہم بھی مانتے ہیں کہ کشمیر میں آج امن ہے… لیکن اس پُر امن دور میں بھی ‘ پر امن جموںکشمیر میں آج بھی ’نامعلوم‘ گھوم پھر رہاہے… آزادی سے ‘ بغیر کسی روک ٹوک کے… جموں میں ایک صحافی کا گھر ‘ اس کا آشیانہ توڑا گیا …اسے زمین بوس کیا گیا‘ ایسا ہی کچھ کنگن میں بھی ہوا… کس نے کیا کوئی نہیں جانتا ہے… کوئی نہیں مانتا ہے کہ … کہ یہ اُس نے کیا… ایل جی صاحب کی انتظامیہ بھی اپنا پلو جھاڑ رہی ہے اوروزیرا علیٰ عمر عبداللہ بھی اس سے اظہار لا تعلقی کررہی ہے… لیکن صاحب زمینی حقیقت یہ ہے کہ جموں اور کنگن میں دو لوگوںکے آشیانے زمین بوس ہیں… زمین پر ان کا اب صرف ملبہ دیکھا جا سکتا ہے…اس کے باوجود دیکھا گیا جا سکتا ہے کہ ان دونوں کارروائیوں کی کوئی ’ذمہ داری‘ لینے کو تیار نہیں ہے… لیکن کسی نے تو یہ کیا نا‘ کسی کے کہنے پر بلڈوزر تو چلا… جموں میں چلا اور کنگن میں بھی چلا … کسی نے تو اس کا حکم دیا گیا ہو گا… اگر کسی نے نہیں دیا تو صاحب کیا ہم ان دونوں کاررائیوں … ان دونوں انہدامی آپریشنوں کو بھی ’نامعلوم‘ کے کھاتے میں ڈال دیں… اسی طرح جس طرح کشمیر میں گزشتہ ۳۵ برسوں میں بہت کچھ … جی ہاں بہت کچھ ’نامعلوم‘ کے کھاتے میں ڈال دیا گیا …یقینا ایسا ہی ہو گا اور اس لئے ہو گا کیونکہ جب سچ اور سچائی کو دفنانا مقصود و مطلوب ہو تو… تو نامعلوم کا سہارا لیاجاتا ہے… اُس نامعلوم … اُس لفظ ’نامعلوم‘ کا جو ہمیں تو جانتا ہے لیکن… لیکن ہم اسے نہیں جانتے ہیں ‘ اسے نہیں پہنچانتے ہیں۔ ہے نا؟




