سرینگر/۲۸ نومبر
حکمران نیشنل کانفرنس نے جمعہ کو دو روزہ ورکنگ کمیٹی اجلاس کے اختتام پر متعدد قراردادیں منظور کیں، جن میں جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے ’اٹل عزم‘ کا اعادہ اور ریاستی درجہ کی فوری بحالی کا مطالبہ شامل ہے۔
سات منظور شدہ قراردادوں میں پہلی قرارداد کے مطابق’’ورکنگ کمیٹی نے متفقہ طور پر جموں کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے اپنے اٹل عزم کا اعادہ کیا۔ کمیٹی نے اس بات کو دوہرایا کہ یہ مسئلہ عوام کی امنگوں اور عزتِ نفس کا مرکز ہے اور اسے مزید تاخیر کے بغیر حل کیا جانا چاہیے‘‘۔
اس میں کہا گیا کہ پارٹی جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی مکمل بحالی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ کمیٹی نے ریاستی درجہ کی فوری بحالی کا مطالبہ بھی کیا۔
ورکنگ کمیٹی نے ۱۰نومبر کو دہلی میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے کی بھی مذمت کی، جس میں کم از کم۱۵؍ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔
پارٹی نے کہا’’ورکنگ کمیٹی نے دہلی کے دہشت گردانہ حملے پر شدید تشویش کا اظہار کیا اور اس کی بلا مشروط مذمت کی۔ کمیٹی نے جاں بحق افراد کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ ایک مہذب معاشرے میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور ایسے انسانیت سوز حملوں سے پوری سختی سے نمٹا جانا چاہیے‘‘۔
کمیٹی نے۱۴ نومبر کو نوگام پولیس اسٹیشن کے اندر ہونے والے حادثاتی دھماکے پر بھی تشویش ظاہر کی، جس میں کم از کم نو افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
این سی نے بیان میں کہا’’کمیٹی نے کہا کہ اس واقعے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات ہونی چاہیے اور کسی بھی قسم کے ایس او پی میں انحراف کی ذمہ داری طے کی جانی چاہیے‘‘۔
پارٹی نے ملک بھر میں جموں کشمیر کے لوگوں کے تحفظ کا بھی مطالبہ کیا اور طلبہ، تاجروں اور رہائشیوں کو درپیش ہراسانی کی رپورٹوں پر شدید تشویش ظاہر کی۔
پارٹی نے کہا’’ہر کشمیری دہشت گرد نہیں ہوتا اور نہ ہی دہشت گردی کا حامی‘‘۔
اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر ریاستی درجہ بحال کر دیا جائے تو پہلگام اور دہلی جیسی دہشت گردانہ وارداتیں دوبارہ نہیں ہوں گی، کیونکہ سیکورٹی کی ذمہ داری منتخب حکومت کے پاس ہوگی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’کیا پہلگام یا دہلی جیسے حملے اس وقت ہوئے جب ہم سیکورٹی کے ذمہ دار تھے؟ میں چھ سال وزیر اعلیٰ رہا، کیا پہلگام جیسا کوئی حملہ ہوا؟ یا دہلی جیسا؟ ذمے داری ہمیں دیجیے، پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ اگر ہم ناکام رہے تو ریاستی درجہ واپس لے لیجیے‘‘۔
عمرعبداللہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ریاستی درجہ کی بحالی کا وعدہ پورا ہوگا۔انہوں نے کہا’’میرا ماننا ہے کہ مرکزی حکومت اتنی جھوٹی نہیں کہ پارلیمنٹ میں کیا گیا وعدہ پورا نہ کرے۔ ورنہ مرکز یہ مان لے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کو اس بات کی سزا دے رہا ہے کہ انہوں نے بی جے پی کو یہاں حکومت بنانے نہیں دی۔ اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے، ہم یہ سزا برداشت کر لیں گے۔ندائے مشرق خبر‘‘










