سرینگر/۲۸نومبر
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جموں میں حکام کی جانب سے ایک صحافی کے گھر کو مسمار کیے جانے پر سخت تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ جموں و کشمیر اس وقت نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت کے اس فیصلے کے ’بے رحمانہ نتائج‘ بھگت رہا ہے جس میں حال ہی میں اسمبلی میں ان کی پارٹی کے ’اینٹی بلڈوزر‘ بل کو مسترد کر دیا گیا تھا۔
محبوبہ مفتی نے جمعہ کو ایک پوسٹ میں لکھا’’یہ یوپی یا کسی اور جگہ کے بے بس مسلم خاندانوں کے گھر نہیں ہیں، جہاں اقلیتوں کو نشانہ بنانا معمول بن چکا ہے۔ یہ جموں و کشمیر ہے، جہاں عرفاض، ایک صحافی جس نے ۴۰ سال پہلے ۳مرلے زمین پر ایک معمولی گھر بنایا تھا، نے دیکھا کہ اسے چند سیکنڈ میں ملبے میں تبدیل کر دیا گیا‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے کہا’’این سی حکومت نے پی ڈی پی کے اینٹی بلڈوزر بل کو ان رہائشیوں کو زمین قابض کہہ کر مسترد کر دیا۔ آج اس فیصلے کے بے رحمانہ نتائج سب کے سامنے ہیں‘‘۔
جمعرات کو جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے انسدادِ تجاوزات کی مہم چلائی گئی، جس کے دوران شہر کے ٹرانسپورٹ نگر علاقے میں غیرقانونی ڈھانچوں کو بلڈوزر کے ذریعے ہٹا دیا گیا۔
جن ڈھانچوں کو گرایا گیا ان میں صحافی عرفاض احمد کا گھر بھی شامل تھا۔یو این آئی










