‘سرینگر/۲۷نومبر
شیو سینا ڈوگرا فرنٹ نے جمعرات کو جموں میں احتجاج کرتے ہوئے رِیاسی ضلع کے ایک میڈیکل کالج میں کشمیر کے مسلم طلبا کو دی گئی نشستوں پر سوال اٹھایا اور داخلہ عمل کی اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ کالج کے خلاف ’بڑی سازش‘ رچی گئی ہے۔
اس سال شری ماتا ویشنو دیوی انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل ایکسی لینس کو ۵۰؍ ایم بی بی ایس نشستیں منظور کی گئی ہیں۔ ۲۶۔۲۰۲۵ کے تعلیمی سال کے پہلے بیچ میں ۴۲ مسلم طلبا کے داخلے نے تنازعہ کھڑا کر دیا ہے، جس پر کچھ دائیں بازو کے گروہوں نے داخلہ عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کالج کو ’اقلیتی درجہ‘ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
شیو سینا ڈوگرا فرنٹ کے صدر اشوک گپتا کی قیادت میں کارکنوں نے کٹرہ میں شری ماتا ویشنو دیوی شرائن بورڈ کی جانب سے چلائے جانے والے میڈیکل کالج کے خلاف نعرے بازی کی۔
گپتا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا’’ہم بورڑ آف پروفیشنل انٹرنس ایگزیمنیشن(بوپی) کے ذریعے کشمیر کے مسلم طلبہ کو داخلہ دینے کے عمل کی اے سی بی تحقیقات چاہتے ہیں۔ کالج ہندو بورڈ چلاتا ہے، لیکن داخلوں میں ایک مخصوص کمیونٹی کی بڑی تعداد کو ترجیح دی گئی ہے، جو ایک سازش کی طرف اشارہ کرتی ہے‘‘۔
شیو سینا ڈوگرا فرنٹ نے مزید الزام لگایا ’’کالج ہندو عقیدت مندوں کے عطیات سے چل رہا ہے۔ مگر انہی عطیات سے ایسی کمیونٹی کے لیے ڈاکٹر تیار کیے جا رہے ہیں جو وادی سے تعلق رکھتی ہے‘‘۔
گپتا نے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کے اس بیان کو بھی نشانہ بنایا کہ ’میرٹ داخلوں کی بنیاد ہونی چاہیے‘۔انہوںنے کہا کہ اگر میرٹ اصول ہے تو اسے مسلم اداروں پر بھی لاگو ہونا چاہیے، خصوصاً بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی پر، جہاں ان کے مطابق مسلمانوں کو زیادہ ریزرویشن دیا جاتا ہے۔
وشو ہندو پریشد نے بھی ماتا ویشنو دیوی میڈیکل کالیج میں مسلم طلبہ کے داخلے کی مخالفت کرتے ہوئے داخلہ فہرست منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔
وی ایچ پی کے لیڈر راجندر کمار نے کہا’’ہم فہرست کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں، اور چاہتے ہیں کہ ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی اور اس کا میڈیکل کالج اقلیتی ادارہ قرار دیا جائے، کیونکہ جموں و کشمیر میں ہندو اور سکھ اقلیت ہیں‘‘۔
سنگھرش سمیتی کے صدر سریندر سنگھ جموال نے کہا’’جب عطیات ہندو دیتے ہیں، تو ہمارے بچوں کو اتنی کم نشستیں کیوں دی گئیں؟ ہمیں کسی سے کوئی مسئلہ نہیں، لیکن کم از کم ہمارے بچوں کے لیے مناسب نشستیں ہونی چاہئیں‘‘۔
بی جے پی اور دیگر ہندو تنظیموں نے داخلہ فہرست منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایل جی منوج سنہا کو میمورنڈم بھی دیا ہے۔
بی جے پی نے درخواست کی کہ ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی میں داخلے صرف ہندو طلبہ تک محدود کیے جائیں اور اگر ممکن ہو تو داخلہ عمل نیشنل میڈیکل کمیشن (این ایم سی) کے ذریعے کرایا جائے۔
ماہرین کے مطابق، این ایم سی صرف سرکاری میڈیکل کالجوں کی ۱۵ فیصد نشستوں پر کاؤنسلنگ کرتا ہے، جبکہ ماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی ایک پرائیویٹ کالج ہے۔
جموں، کٹرہ، رِیاسی، کٹھوعہ اور ادھمپور میں بھی کئی تنظیموں نے احتجاج کیا، مطالبہ کرتے ہوئے کہماتا ویشنو دیوی یونیورسٹی کو ’ہندو اقلیتی ادارے‘کا درجہ دیا جائے تاکہ صرف ہندو طلبہ کو ترجیحی بنیادوں پر داخلے مل سکیں۔
(ویب ڈیسک )










