سرینگر/۲۷نومبر
نیشنل کانفرنس (این سی) کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ نے جمعرات کو کہا کہ انہیں پارٹی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی (سی ڈبلیو سی) کی سرینگر میں ہونے والی میٹنگ میں مدعو نہیں کیا گیا، جسے انہوں نے۲۰۰۲ کے بعد پہلی ایسی مثال قرار دیا۔
آغا روح اللہ جمعرات کو گاندربل کے تولہ ملہ میں میڈیا سے بات کر رہے تھے، جہاں انہوں نے مقامی لوگوں سے انتظامی مسائل پر بات چیت کی۔
این سی رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ وہ مقامی باشندوں کی دعوت پر آئے تاکہ ان کے مسائل کو سمجھ سکیں، جنہیں متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا جانا ہے۔
روح اللہ نے کہا’’اگر مسائل مرکز سے متعلق ہیں تو انہیں اسی سطح پر اٹھایا جائے گا، اور اگر مقامی ہیں تو وہ بھی زیرِ غور آئیں گے۔ میں اسی ذمہ داری کے ساتھ یہاں آیا ہوں‘‘۔
سی ڈبلیو سی کی میٹنگ کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ انہیں اس سلسلے میں کوئی براہِ راست اطلاع نہیں۔روح اللہ نے کہا’’اگر ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ چل رہی ہے تو میں ۲۰۰۲ سے مستقل رکن ہوں۔ یہ پہلی بار ہے کہ مجھے مدعو نہیں کیا گیا‘‘۔
سوشل میڈیا پر اس بارے میں گردش کرنے والی خبروں کے حوالے سے کہ وہ نئی پارٹی بنا رہے ہیں، آغا روح اللہ نے اس تاثر کی تردید کی کہ وہ این سی سے دوری اختیار کرکے کوئی نئی سیاسی جماعت تشکیل دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پارٹی قیادت سے ان کا اختلاف ۲۰۲۴ کے انتخابات میں عوام سے لیے گئے مینڈیٹ کی بنیاد پر ہے۔
این سی رکن پارلیمنٹ نے کہا’’ہم نے آرٹیکل ۳۷۰ کے تحت چھینی گئی آئینی مراعات کی بحالی کے لیے لڑنے کا وعدہ کیا تھا۔ ہم ووٹ اسی نام پر لے کر بی جے پی کی زبان نہیں بول سکتے‘‘۔
گاندربل میں بلڈوزر کارروائی کے بارے میں، آغا روح اللہ نے مقامی نمائندوں کی غیر موجودگی پر سوال اٹھایا۔انہوں نے کہا’’ہم نے نمائندے اس لیے منتخب کیے کہ وہ لوگوں کا دفاع کریں اور ان کے لیے بولیں۔ اگر تجاوزات تھیں تو قانون اپنا راستہ اختیار کر سکتا تھا۔ لیکن منتخب نمائندے سامنے کیوں نہیں آئے؟‘‘
روح اللہ نے عمر رسیدہ امیدواروں کے مسئلے پر بھی اپنا مؤقف دہرایا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسے ایک ماہ کے اندر حل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو وہ احتجاج پر بیٹھیں گے۔
این سی رکن پارلیمنٹ نے یہ بھی کہا کہ وہ اپنے حلقے میں ترقیاتی کام جاری رکھیں گے، جن میں ضلع اسپتالوں میں سی ٹی اسکین مشینیں نصب کرنا اور اہم سڑکوں کی کشادگی شامل ہے۔
سرینگر کے رکن پارلیمنٹ نے کہا کہ ان کی سیاست اصولوں سے چلتی ہے، نہ کہ طاقت اور عہدوں کی خواہش سے۔ یہ بیان اس کے ایک روز بعد آیا جب نائب وزیراعلیٰ سرندر چودھری نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ مقبولیت تلاش کرنے کے بجائے پارلیمنٹ میں آواز اٹھائیں۔
روح اللہ نے کہا کہ جن لوگوں میں سیاسی نظم و ضبط، اصول، ایمانداری اور وفاداری نہ ہو، وہ جواب کے مستحق بھی نہیں۔انہوں نے کہا’’نائب وزیراعلیٰ خود پی ڈی پی چھوڑ چکے ہیں، اور مجھے اصول اور پارٹی کا درس دیتے ہیں۔ میری لڑائی اصولوں کے لیے ہے، کرسی کے لیے نہیں۔ میں نے کرسی کے لیے نہ پارٹی بدلی اور نہ اصول بدلے ہیں‘‘۔
این سی رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ دو سال پہلے نائب وزیراعلیٰ نیشنل کانفرنس میں نہیں تھے، کبھی بی جے پی کے ساتھ، کبھی پی ڈی پی کے ساتھ نظر آئے۔انہوں نے کہا’’جہاں بھی کرسی اور موقع ملتا ہے، وہ وہیں چلے جاتے ہیں‘‘۔
روح اللہ نے کہا کہ ایسے لوگوں کے پاس نہ کوئی اصول ہے، نہ اقدار، اور نہ ہی کوئی سمت۔انہوں نے کہا’’میری سیاست اور میری کوششیں اصولوں اور اقدار پر مبنی ہیں۔ اسی لیے اگر میں نے پارٹی سے اختلافِ رائے ظاہر کیا ہے تو وہ اصولوں کی بنا پر ہے، کرسی کی لالچ میں نہیں۔ندائے مشرق ویب ڈیسک‘‘










