لگ جائیے جناب تیاریوں میں لگ جائیے ‘ جٹ جائیے کہ جناب نے چاہتے ہیں کہ ہم ان کی آمد سے پہلے … اور بہت پہلے ان کی آمد اور استقبال کی تیاریاں پکڑیں … اور اگر ہم ایسا نہیں کرتے ہیں تو… تو نقصان کسی اور کا نہیں… اس کا تو بالکل بھی نہیں ‘ الٹا ہمارا ہو جائیگا… اس لئے صاحب عقل و انش کا یہی تقاضا ہے کہ ہم بغیر کسی چوں و چرا کے اس کی آمد اور استقبال کی تیاریاں کریں… ویسی بھی اب ہم کس بات پر چوں و چرا کر تے ہیں یا کر سکتے ہیں کہ… کہ ہم تو ہر ایک بات ‘ ہر ایک حکم … ہر ایک آڈر سرتسلیم خم کرکے قبول کرتے ہیں… اس لئے حضرت چلہ کلان جو چاہتے ہیں… ان کی جو خواہش ہے ‘ہم اسے بھی قبول کرتے ہوئے… ان کی آمد کی تیاریوں میں جٹ جاتے ہیں تاکہ ان کا شایان شان استقبال کیا جائے… کہ اب بھی تو یہ جناب بیس پچیس دن ہم سے دور ہیں… لیکن ان کی آمد سے پہلے موسم کا … درجہ حرارت کا جو حال ہے… منفی درجہ حرارت کا … شبانہ درجہ حرارت کا اس سے بخوبی اور بہ آسانی اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ جب یہ جناب آئیں گے… تشریف آور ہو ں گے تو… تو ان کے تیور کس قدر سخت ہوں گے… معمولی بات نہیںہے کہ ان تشریف آوری سے پہلے ہی شبانہ درجہ حرارت منفی ۵ ڈگری سینٹی گریڈ یا سرینگر کے بغیر کسی دوسری جگہوںپر اس سے بھی نیچے گر جائے… لڑھک جائے… یہ معمولی بات یا مذاق نہیں ہے… اس لئے صاحب اب کے ہمارا حال سچ میں بے حال ہو نے والا ہے… لیکن… لیکن پھر بھی ہمیں کوئی اعتراض نہیںہے… ہمیں چلہ کلان سے کوئی شکوہ ‘ کوئی گلا نہیں ہے اور… اور اس لئے نہیںہے کہ … کہ ان جناب نے پہلے ہی اپنے پتے کھول دئے … اپنے ارادے ظاہر کئے… انہوں نے اپنے اداروں کو اپنے تک محدود نہیں رکھا… بلکہ پیشگی میںا نہیں ہم پر واضح کیا… اب اگر ہم ان کی آمد کا … کشمیر میں ان کے قیام کیلئے ضروری اقدامات اور تدابیر اختیار نہیں کر یں گے تو صاحب یہ ہماری غلطی ہو گی… کوتاہی ہو گی … کسی اور کی نہیں ‘ بالکل بھی نہیں … چلہ کلان کی تو ہر گز نہیں… اس لئے صاحب آپ اپنے لنگوٹے کس لیجئے اور چلہ کلان کی آمد اور استقبال کی تیاریوںلگ جائیے… جٹ جائے ۔ ہے نا؟




