سرینگر/۲۶ نومبر
جموں کشمیر نے ری ویمپڈ ڈسٹری بیوشن سیکٹر اسکیم (آر ڈی ایس ایس) کے تحت اسمارٹ بجلی میٹرز کی تنصیب میں ۴۰فیصد پیشرفت حاصل کی ہے، جس کے تحت ایک سال سے زائد عرصے میں پوری مرکز کے زیرِ انتظام ریاست میں۸۱ء۳ لاکھ سے زیادہ آلات نصب کیے گئے ہیں۔
حکام نے بتایا کہ منصوبے کے پہلے مرحلے کی شروعات نومبر ۲۰۲۰ میں ہوئی تھی جس کا ابتدائی ہدف جموں اور سرینگر کے منتخب علاقوں میں۲۰ ہزار میٹر نصب کرنا تھا، اور یہ مرحلہ ۲۰۲۲ میں مکمل ہوا جس میں ۵ء۱لاکھ اسمارٹ میٹر نصب کیے گئے۔
دوسرا اور تیسرا مرحلہ ۲۰۲۴ میں شروع ہوا جس کا مجموعی ہدف ۲۰۲۶ تک۵۰ء۹ لاکھ سے زیادہ اسمارٹ میٹرز کی تنصیب ہے، جو اس وقت عمل درآمد کے تحت ہیں۔
یہ پیشرفت رپورٹ ایک میٹنگ میں شیئر کی گئی جس کی صدارت چیف سیکریٹری اَتل ڈولو نے یہاں کی۔
چیف سیکریٹری نے پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ (پی ڈی ڈی) کی جانب سے نافذ کی جا رہی اصلاحات کا جائزہ لیا، جن کا مقصد عملی کارکردگی میں بہتری، بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانا اور آر ڈی ایس ایس کے تحت بجلی کے نقصانات میں نمایاں کمی لانا ہے۔
حکام کے مطابق۳لاکھ۸۱ہزار۶۷۱؍ اسمارٹ میٹرز نصب کیے گئے‘جو جموںکشمیر بھر میں مقررہ۹لاکھ۵۰ہزار۷۵۵ میٹرز کے کل ہدف کا۴۰ فیصد ہے۔
ڈویڑن وار تفصیل سے پتا چلا کہ جموں پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (جے پی ڈی سی ایل) نے منظور شدہ۷لاکھ۶۲ہزار۸۷۲میٹرز میں سے ایک لاکھ۸۷ہزار۸۹۴ میٹر نصب کیے، جبکہ کشمیر پاور ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (کے پی ڈی سی ایل) نے ۷لاکھ۲۷ہزار۸۵۵کے ہدف کے مقابلے میں ایک لاکھ ۹۳ہزار۷۷۷ میٹر نصب کیے، جو جموں و کشمیر میں ایک شفاف اور صارف دوست بجلی تقسیم نظام کی طرف مستحکم پیشرفت کی نشاندہی کرتا ہے۔
حکام نے بتایا کہ آر ڈی ایس ایس کے تحت۴۷۰۹ کروڑ روپے کے نقصان میں کمی سے متعلق کام اور۱۰۵۳کروڑ روپے کے اسمارٹ میٹرنگ کے کام مکمل کیے جانے کا ہدف ہے۔
کاموں کو متعدد پیکیجز میں تقسیم کیا گیا ہے اور چار پروجیکٹ امپلی منٹنگ ایجنسیز‘ جے پی ڈی سی ایل ‘کے پی ڈی سی ایل‘پاورگرڈ انرجی سروسز لمیٹڈ ( پی ای ایس ایل) اور نیشنل تھرمل پاور کارپوریشن (این ٹی پی سی )‘کو مقررہ مدت کے اندر مکمل کرنے کے لیے دیا گیا ہے۔
نقصان میں کمی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی/آپریشنل ٹیکنالوجی کے کاموں کی پیشرفت جے پی ڈی سی ایل کیلئے ۷۴ فیصد، کے پی ڈی سی ایل کیلئے۷۳ فیصد‘پی ای ایس ایل کے لیے کشمیر میں۵۷ فیصد اور جموں میں ۳۳ فیصد، اور این ٹی پی سی کیلئے ان ڈویڑنز میں ۷۲ فیصد اور۳۱ فیصد رہی۔
میٹنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مجموعی تکنیکی و تجارتی (اے ٹی اینڈ سی) نقصانات کو ۲۰۲۲ میں۵۸ فیصد سے کم کر کے موجودہ سطح پر تقریباً ۳۲ فیصد تک لایا جا چکا ہے، جبکہ۲۰۲۸ تک انہیں۱۲ فیصد تک لانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اسی طرح، اوسط لاگتِ فراہمی (اے سی ایس) اور اوسط آمدنی (اے آر آر) کے فرق کو ۱۱ء۳ روپے سے کم کر کے ۲۹ء۱ روپے فی یونٹ کر دیا گیا ہے، جبکہ بلنگ افادیت ۵۶ فیصد سے بڑھ کر ۶۹ فیصد اور کلیکشن افادیت ۷۵ فیصد سے بڑھ کر ۹۴ فیصد ہو گئی ہے، جو پاور سیکٹر میں مالی استحکام اور عملی کارکردگی کی سمت اہم پیشرفت ظاہر کرتی ہے، حکام نے کہا۔
چیف سیکریٹری نے مقررہ وقت کی سخت پابندی پر زور دیتے ہوئے ہدایت کی کہ نقصانات میں کمی کیلئے جاری تمام اصلاحاتی کام حکومتِ ہند کی جانب سے آر ڈی ایس ایس کے تحت مقرر ’سن سیٹ پیریڈ‘ کے اندر مکمل کیے جائیں۔
ڈلو نے نقصانات میں کمی سے متعلق تمام کاموں ‘بشمول ایل ٹی کیبل کی تبدیلی، تقسیم کے نظام کی توسیع اور تبدیلی‘ایچ ٹی لائن کیبلنگ‘ایچ ٹی کنڈکٹر کی تبدیلی، فیڈرز کی علیحدگی اور بجلی کے کھمبوں کی تنصیب ‘ کیلئے روزانہ اور ہفتہ وار ہدف مقرر کرنے کی ہدایت دی۔
چیف سیکریٹر نے فیڈر وار بلنگ اور ریونیو کلیکشن افادیت بہتر بنانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ایسے حکام کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا کہا جو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں کوتاہی یا غفلت کے مرتکب پائے جائیں۔
چیف سیکریٹری نے جموں اور کشمیر کے ڈویڑنل کمشنروں کو ہدایت دی کہ وہ ماہانہ جائزہ لیں اور فیلڈ سطح کے ایسے اہلکاروں کی نشاندہی کریں جو کارکردگی نہیں دکھا رہے۔
(ندائے مشرق ویب ڈیسک)










