رائے پور، 22 نومبر (یو این آئی) چھتیس گڑھ کے دارالحکومت رائے پور کے سائنس کالج گراؤنڈ کے پاس تیار کی گئی این آئی ٹی چوپاٹی کو آج صبح آماناکہ منتقل کر دیا گیا، لیکن اس سے قبل اس معاملہ پرتلخ سیاسی ٹکراؤ اوراحتجاج ہوا۔
تقریباً 10 کروڑ کی لاگت سے تیار 60-70 دکانوں کو جے سی بی (بلڈوزر) سے منہدم کردیا گیا، جبکہ شکایت کرنے والے تاجروں اور مظاہرہ کر نے والے کانگریس رہنماؤں کو پولیس نے طاقت کے زور پر ہٹا کر سینٹرل جیل بھیج دیا۔
جمعہ دیر رات سے ہی سابق رکن اسمبلی اور کانگریس رہنما وکاس اپادھیائے تاجر یونین کے ساتھ دھرنے پر بیٹھے تھے ۔ جیسے ہی میونسپل کارپوریشن کی ٹیم صبح چوپاٹی کو ہٹانے پہنچی، کانگریس رہنماؤں نے جے سی بی کے سامنے لیٹ کر احتجاج درج کرایا۔ موقع پر پولیس اور کارکنان کے درمیان دھکا مُکی بھی ہوئی۔
سابق رکن اسمبلی وکاس اپادھیائے نے الزام لگایا کہ، بغیر نوٹس، بغیر بات چیت اور بغیر متبادل انتظام کے دکانوں کو توڑا گیا۔
انہوں نے کہا، ”10 کروڑ کی عوامی ملکیت ایک جھٹکے میں گرا دی گئی۔ یہاں کے رکن اسمبلی کو پتہ ہی نہیں کہ نوجوانوں اور طالب علموں کی ضروریات کیا ہیں۔تاجر رات بھر احتجاج میں بیٹھے رہے ، ہمارے لوگ زخمی ہوئے ، لیکن حکومت بات چیت کو تیار نہیں ہوئی۔” "دکانداروں کو ڈھنگ سے نوٹس تک نہیں دیا گیا، ان کا کاروبار راتوں رات متاثر کر دیا گیا۔”
تاجروں کا بھی کہنا ہے کہ انہیں اچانک منتقلی کی اطلاع دی گئی، جبکہ”پہلے سے کوئی تحریری نوٹس جاری نہیں کیا گیا تھا۔”
نائب وزیر اعلیٰ ارون ساؤنے اس معاملے میں کہا کہ جمہوریت میں احتجاج فطری ہے ، لیکن کانگریس معاملات کو سمجھنے کے بجائے سیاسی ٹکراؤ کو بڑھا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا، ”اقتدار میں رہتے ہوئے ایک بات اور اپوزیشن میں آتے ہی دوسری باتیں… کانگریس کا یہی دوہرا رویہ اب عوام دیکھ رہی ہے ۔”
وہیں اس معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) دفتر میں پریس کانفرنس کر کے سابق وزیر اور موجودہ رائے پور مغرب کے رکن اسمبلی راجیش مونت اور شہر کی میئر مینل چوبے نے میڈیا سے بات کی۔ رائے پور مغرب کے رکن اسمبلی اور سابق وزیر راجیش مونت نے چوپاٹی کو ”غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے پرانے تنازعے کا حوالہ دیا۔









