بدلتی ہوئی سیکورٹی صورتحال مسلسل ہوشیاری اور تیزی سے اپنائے جانے والے اقدامات کا تقاضا کرتی ہے:ایل جی سنہا
جموں/۲۲ نومبر
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے ہفتہ کے روز پاکستان پر بالواسطہ تنقید کرتے ہوئے مسلح افواج سے کہا کہ وہ اس دشمن کے مقابل چوکسی میں کمی نہ آنے دیں جو ریاست میں امن کو تہہ و بالا کرنے اور ملک کی ترقی میں رخنہ ڈالنے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے۔
اودھمپور میں ناردن کمانڈ ہسپتال میں منعقدہ میگا آئی کیمپ ’آپریشن درِشٹی‘ کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایل جی سنہا نے کہا کہ بدلتی ہوئی سیکورٹی صورتحال مسلسل ہوشیاری اور تیزی سے اپنائے جانے والے اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔
پہلی بار منعقد ہونے والے اس بڑے کیمپ میں اودھمپور، ڈوڈہ، راجوری، پونچھ، کشتواڑ اور رام بن کے دور دراز علاقوں سے آئے دو ہزار سے زائد افراد کا معائنہ کیا گیا، جبکہ چار سو سے زیادہ سرجریز انجام دی گئیں۔
سنہا نے کہا’’مجھے بھارتی فوج کی بے لوث خدمت اور اس کی عظیم قربانیوں پر فخر ہے۔ بھارتی فوج قومی اتحاد اور یکجہتی کی علامت ہے۔ فوج نے جموں و کشمیر میں پائیدار امن، ہمہ جہت ترقی اور ملک کی مجموعی پیش رفت کے لیے سازگار ماحول قائم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے‘‘۔
لیفٹیننٹ گورنر نے ناردن کمانڈ، آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز، آر آر ہسپتال دہلی اور کیمپ سے وابستہ طبی عملے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انسانی ہمدردی کی اعلیٰ ترین مثال پیش کی ہے۔
سنہا نے بھارتی مسلح افواج کے اہلکاروں کے حوصلے، دلیری اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک امن، ہم آہنگی اور دوستی کے اصولوں پر مضبوطی سے قائم ہے۔
ایل جی کاکہنا تھا’’آج بھارت کو اپنی قوت ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ ملک کی بہادر مسلح افواج اس کی طاقت اور وقار کا عملی ثبوت ہیں‘‘۔سنہا نے خبردار کیا کہ دشمن کی جانب سے پْرامن ماحول کو سبوتاڑ کرنے کی شدت سے کوششیں جاری ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’حال ہی میں جموں و کشمیر پولیس نے پورے ملک میں پھیلے ایک بڑے دہشت گرد نیٹ ورک کو بے نقاب کر کے تباہ کیا، جو ملک بھر میں سلسلہ وار حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔ ایسی صورتحال میں ملک کی عزت، سرحدوں کے تحفظ اور قومی یکجہتی کے لیے ہمیں ہر لمحہ چوکس رہنا ہوگا‘‘۔
دفاعی وزیر راجناتھ سنگھ اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل اْپندر دویدی نے بھی ویڈیو پیغامات کے ذریعے ناردن کمانڈ، آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز اور کیمپ کے منتظمین کو اس نیک کارِ خدمت پر مبارکباد دی۔
چار روزہ کیمپ کے دوران آرمی ہسپتال ریسرچ اینڈ ریفرل، دہلی کے ماہر امراضِ چشم پر مشتمل پیشہ ور سرجنوں کی ٹیم نے موتیے کے آپریشن انجام دیے۔
اپنے خطاب میں لیفٹیننٹ گورنر نے ناردن کمانڈ، آرمڈ فورسز میڈیکل سروسز، آرمی ہسپتال ریسرچ اینڈ ریفرل دہلی اور کیمپ سے وابستہ طبی ٹیم کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے قوم کے سامنے انسانی ہمدردی کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی ہے۔
سنہا نے آرمی ہسپتال ریسرچ اینڈ ریفرل، دہلی کے نامور ماہرِ چشم بریگیڈیئر ڈاکٹر سنجے مشرا کی بھی ستائش کی جو سماج کے لیے بے لوث خدمات انجام دے رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا’’بے خوف سپاہی اور فرض شناس افسر کی تشکیل کے لیے قیادت کی خصوصیات نہایت اہم ہیں—جو خود آگے بڑھ کر رہنمائی کرتا ہے اور مثال قائم کرتا ہے۔ یہ کیمپ بھی ایسی ہی قیادت کا مظہر ہے جو سماج کو تحریک دے رہی ہے اور ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دینے میں مددگار ہے‘‘۔
سنہانے عوام سے اپیل کی کہ وہ آنکھ عطیہ (آئی ڈونییشن) میں حصہ لیں اور دوسروں کو بھی اس نیکی کے کام کی ترغیب دیں۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ یہ کیمپ بینائی سے متعلق بیماریوں کے بارے میں آگاہی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور ضروری آنکھوں کی نگہداشت کے بارے میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ ان کے مطابق اس طرح کے کیمپ دور دراز علاقوں میں کمزور طبقات تک پہنچتے ہیں‘وہ لوگ جو اپنی بیماریوں سے لاعلم ہوتے ہیں یا علاج کے لیے مالی وسائل نہیں رکھتے۔ ایسے علاقوں میں یہ کیمپ ضروری طبی سہولتیں براہِ راست ان لوگوں تک پہنچاتے ہیں جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ایجنسیز









