(سرینگر/۲۲نومبر
دہلی دھماکے کے معاملے کی تفتیش میں جیش سے وابستہ وائٹ کالر دہشت گرد نیٹ ورک کی ایک خطرناک منصوبہ بندی بے نقاب ہوئی ہے، جس کے تحت ملک کے کئی شہروں میں دھماکوں کا ارادہ تھا۔
ذرائع نے این ڈی ٹی وی کو بتایا کہ ملزم میں سے ایک نے اعتراف کیا ہے کہ یہ سازش۲۰۲۳ میں تیار کی گئی تھی، جب کہ تفتیش کاروں نے۱۰/۱۱ دھماکے کے پس منظر میں پوری سازش کا سراغ لگایا۔
لال قلعے کے نزدیک آئی ۲۰ کار میں ہوئے دھماکے میں کم از کم۱۳؍ افراد ہلاک ہوئے تھے، جسے ایک ’پینک ڈیٹونیشن‘ سمجھا جا رہا ہے، جب کہ اصل منصوبہ سلسلہ وار دھماکوں کا تھا۔
خودکش بمبار عمر محمد کے ساتھی ڈاکٹر مزمل شکیل نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی تفتیش کے دوران انکشاف کیا کہ وہ پچھلے دو سال سے ان دھماکوں کی تیاری کر رہا تھا۔ ان دو سالوں کے دوران وہ دھماکہ خیز مواد، ریموٹ اور دیگر بم بنانے کا سامان جمع کر رہا تھا، ذرائع نے بتایا۔
ڈاکٹر کو یوریا اور امونیم نائٹریٹ خریدنے کی ذمہ داری دی گئی تھی…یہ وہ مرکب ہے جو دیگر بے حد مستعد کیمیاوی مواد کے ساتھ مل کر بیرونی ڈیٹونیشن سے پھٹ سکتا ہے۔
مزمل نے ۳ لاکھ روپے میں ۲۶ کوئنٹل این پی کے کھاد گروگرام اور نوح (ہر یانہ) سے خریدی۔ دیگر دھماکہ خیز مواد نوح سے حاصل کیا گیا جبکہ برقی پرزے فرید آباد کی دو مختلف مارکیٹوں سے خریدے گئے۔ ڈاکٹر نے کیمیکلز کو محفوظ ماحول میں رکھنے کے لیے ایک ڈیپ فریزر بھی خریدا تھا۔
اس کے ساتھی عمر کی ذمہ داری تھی کہ کھاد کو دھماکہ خیز مواد میں استعمال کے لیے پروسیس کرے، اور دیگر کیمیکلز اور اجزاء اکٹھا کرے۔ ایک آٹا چکی، جس کا استعمال مزمل یوریا کو پیس کر کیمیکل بنانے کے لیے کرتا تھا، بھی برآمد کر لی گئی ہے۔
این ڈی ٹی وی رپورٹ کے مطابق دہلی دھماکے کی سازش کی فنڈنگ خود ملزمان نے کی۔ دہشت گرد نیٹ ورک کے ارکان نے دھماکہ خیز مواد کی خریداری کے لیے ۲۶ لاکھ روپے اکٹھے کیے۔ یہ رقم بعد میں عمر کے حوالے کی گئی، جس نے خود اس میں ۲ لاکھ روپے ڈالے تھے۔
مزمل نے ۵ لاکھ روپے دیے، جبکہ دیگر ارکان عادل راتھر اور مظفر راتھر نے بالترتیب ۸ لاکھ اور ۶ لاکھ روپے دیے۔ لکھنؤ کے شاہین سعید نے ۵ لاکھ روپے فراہم کیے۔
ذرائع نے یہ بھی تصدیق کی کہ الفلاح یونیورسٹی میں عمر اور مزمل کے درمیان رقم کو لے کر جھگڑا ہوا تھا۔ اس کے بعد عمر نے مزمل کو اپنی ریڈ ایکو اسپورٹ کار دے دی تھی، جو بعد میں فرید آباد سے برآمد ہوئی۔
عمر دھماکے میں خود کو اْڑا چکا ہے، جبکہ باقی ملزمان حراست میں ہیں اور ان سے تفتیش جاری ہے۔ یہ سب ملزمان فرید آباد کی الفلاح یونیورسٹی میں کام کرتے تھے، جو مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں خود بھی جانچ کے دائرے میں ہے۔
رپورٹ کے مطابق مزمل نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے۵ء۶ لاکھ روپے میں اے کے۴۷ رائفل خریدی تھی، جو بعد میں عادل راتھر کے لاکر سے برآمد ہوئی۔ اس نے اپنے ہینڈلروں کے نام بھی بتائے: اس کا ہینڈلر منصور تھا جبکہ عمر کا ہینڈلر ہاشم۔ دونوں ایک شخص ابراہیم کے احکامات پر کام کر رہے تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مزمل، عادل اور مظفر نے اوکاسا کی ہدایات پر ترکیہ کا سفر کیا تھا، جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے منسلک ہے۔ منصوبہ یہ تھا کہ وہ افغانستان داخل ہوں، مگر ایک ہفتے تک انتظار کے بعد ہینڈلر اچانک پیچھے ہٹ گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اوکاسا ٹیلیگرام کے ذریعے مزمل سے رابطے میں رہتا تھا، اور بات چیت اس وقت ختم ہوگئی جب مزمل نے اس سے اس کے ہینڈلر کے بارے میں سوال کیا۔
رپورٹ کے مطابق عمر نے دھماکہ خیز مواد خریدنے سے پہلے انٹرنیٹ پر بم بنانے کی ویڈیوز اور لٹریچر کا مطالعہ کیا تھا۔
تحقیقاتی ایجنسیوں کا ماننا ہے کہ یہ انکشافات ایک متعدد مقامات پر دھماکے کرنے کی بڑے پیمانے کی سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ منصوبہ یہ تھا کہ مختلف مقامات پر ایک ساتھ دھماکے کیے جائیں۔یہ سازش اب تفتیشی ایجنسیوں کی نگرانی میں ہے، اور اس میں متعدد غیر ملکی روابط اور اندرونی نیٹ ورک سامنے آ رہے ہیں۔ندائے مشرق ویب ڈیسک)










