واشنگٹن/21نومبر//
ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی پٹرولیم اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں ملوث بھارتی اداروں اور افراد پر پابندیاں عائد کر دی ہیں، یہ کہتے ہوئے کہ اس تجارت سے حاصل ہونے والی رقم تہران کے علاقائی دہشت گرد نیٹ ورکس کی مالی معاونت اور ہتھیاروں کی خریداری میں استعمال ہوتی ہے، جو ’امریکا کیلئے براہِ راست خطرہ‘ ہے۔
امریکی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ خزانہ نے ان شپنگ نیٹ ورکس پر پابندیاں لگائی ہیں جو ایران کی غیر قانونی تیل فروخت کے ذریعے ایرانی حکومت کی ’بد نیتی پر مبنی سرگرمیوں‘ کیلئے فنڈ فراہم کرتے ہیں، ساتھ ہی ایک ایئر لائن اور اس کی شاخیں بھی شامل ہیں جو ایران کے حمایت یافتہ عسکری گروہوں کو اسلحہ اور سامان فراہم کرتی ہیں۔
خزانہ? محکمے کے آفیس آف فارن ایسیٹس کنٹرول (OFAC) کی خصوصی نامزد شدہ افراد کی فہرست میں شامل کیے گئے بھارتی شہریوں میں زائر حسین اقبال حسین سید، ذوالفقار حسین رضوی سید، مہاراشٹر کیRN Ship Management Private Limited اور پْنے کی TR6 Petro India LLPشامل ہیں۔
امریکی وزارتِ خارجہ کے مطابق، وہ 17 اداروں، افراد اور جہازوں کو نامزد کر رہا ہے جو ایران کی پیٹرولیم اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں ملوث ہیں۔ ان کا تعلق بھارت، پاناما، اور سیشلز سمیت کئی ممالک سے ہے۔
اسی دوران وزارتِ خزانہ نے 41 اداروں، افراد، جہازوں اور طیاروں کو نامزد کیا ہے تاکہ ایران کی پیٹرولیم اور پیٹروکیمیکل برآمدات کے خلاف کارروائی تیز کی جا سکے اور ان مالیاتی ذرائع کو توڑا جا سکے جو ایران کی ’بد نیتی پر مبنی سرگرمیوں‘ کو سہارا دیتے ہیں۔
وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل کی اس تجارت سے پیدا ہونے والی رقم ایران کے علاقائی دہشت گرد گروہوں کی پشت پناہی اور ایسے ہتھیاری نظام کی خرید میں استعمال ہوتی ہے جو امریکی افواج اور اتحادیوں کیلئے براہِ راست خطرہ ہیں۔
بیان کے مطابق،TR6 Petro India LLP ایک بھارت میں قائم پٹرولیم مصنوعات کا تاجر ہے، جس نے اکتوبر 2024 سے جون 2025 کے دوران مختلف کمپنیوں سے ایران نڑاد بٹومِن کے 80 لاکھ ڈالر سے زائد کی مصنوعات درآمد کیں۔
امریکا کہتا ہے کہ اسے ایران کی پٹرولیم مصنوعات کی خرید و فروخت اور ترسیل سے متعلق ’اہم لین دین‘ میں ملوث ہونے پر نامزد کیا گیا ہے۔
وزارتِ خارجہ نے کہا کہ ایرانی حکومت مشرقِ وسطیٰ میں تنازع کو بھڑکانے اور خطے کو عدم استحکام کا شکار کرنے کیلئے وسائل فراہم کرتی رہتی ہے۔ یہ رویہ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں میں شدت، دہشت گرد گروہوں کی حمایت، اور عالمی تجارت و بحری راستوں میں رکاوٹیں پیدا کرتا ہے۔
امریکا نے کہا کہ وہ ایرانی خام تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی نقل و حمل میں ملوث سمندری سروس فراہم کنندگان، ’ڈارک فلیٹ‘ آپریٹرز اور تاجروں کے خلاف کارروائی جاری رکھے گا۔
امریکی بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات قومی سلامتی کے صدارتی میمورنڈم 2 (NSPM-2) کے تحت کیے جا رہے ہیں، جس کا مقصد ایرانی حکومت پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنا اور اسے اپنے عدم استحکام پھیلانے والے اقدامات کیلئے درکار وسائل سے محروم کرنا ہے۔
بیان کے مطابق:
’جب تک ایران امریکا اور اس کے اتحادیوں پر حملوں، عالمی دہشت گردی کی معاونت اور خطے میں عدم استحکام کیلئے آمدنی استعمال کرتا رہے گا، امریکا اس کے خلاف تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا۔‘







