جموں/۲۰نومبر
جموں کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ نے پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے)کے تحت حراست میں رکھے گئے عام آدمی پارٹی کے ایم ایل اے اور جموں و کشمیر یونٹ کے صدر معراج ملک کی طرف سے دائر درخواستِ۴دسمبر کو حتمی دلائل کے لیے مقرر کر دی ہے ۔
جمعرات کو جسٹس یوسف وانی کی عدالت میں کیس کی سماعت ہوئی، جس دوران ملک کی قانونی ٹیم نے حراست کے خلاف تفصیلی دلائل پیش کیے ۔
عاپ کی ترجمان اور وکیل اپو سنگھ سلامتھیا کے مطابق سینئر ایڈووکیٹ راہل پنتھ نے عدالت کے روبرو مؤقف اختیار کیا کہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جاری کردہ نظربندی کے احکامات غیر قانونی اور غیر مستند ہیں۔
معراج ملک کو۸ستمبر کو پی ایس اے کے تحت ’امن و امان میں خلل‘کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں بعد میں کٹھوعہ جیل منتقل کر دیا گیا۔ ملک نے۲۴ستمبر کو ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی، جس میں گرفتاری کو چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ۵کروڑ روپے معاوضے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے ۔
عدالت نے دلائل سننے کے بعد کیس کی مزید کارروائی کو۴دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے اس تاریخ کو حتمی سماعت کے لیے مقرر کر دیا۔
ملک کی قانونی ٹیم میں راہل پنتھ کے ساتھ ایڈووکیٹ ایس ایس احمد، ایم طارق مغل اور ایم ذوالقرنین چودھری بھی شامل ہیں، جو کیس کی پیروی کر رہے ہیں۔ایجنسی










