پٹنہ، 13 نومبر (یو این آئی)
بہار اسمبلی انتخابات میں ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد جہاں سب کی نظریں ووٹوں کی گنتی پر لگی ہیں، وہیں اس سے قبل پٹنہ کی سڑکوں پر پوسٹر وار نے سیاسی ماحول کو گرم کر دیا ہے ۔
مہاگٹھ بندھن (اپوزیشن اتحاد) کے حامیوں نے سڑکوں پر پوسٹر لگائے ہیں جن پر لکھا ہے ‘الوداع چاچا’ جب کہ نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے ) کی جانب سے جواب آیا "ٹائیگر ابھی زندہ ہے !”
11 نومبر کو ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد سامنے آئے ایگزٹ پول کے نتائج نے این ڈی اے کی واپسی کے اشارے دیے تھے ۔ اسی دن بہار کے نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے میڈیا سے کہا کہ "ایگزٹ پول صرف اشارہ ہے ، اصل جیت اس سے بھی بڑی ہوگی۔”
اگلے ہی دن راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کے رہنما تیجسوی یادو نے اس خوش فہمی کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو اسمبلی انتخابات میں بھی ایگزٹ پول بری طرح ناکام رہے تھے اور اس بار بھی اس کی ساکھ مشکوک ہے ۔ انہوں نے سروے میں استعمال ہونے والے سیمپل سائز پر بھی سوال اٹھائے ۔
آر جے ڈی کی اتحادی سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے رہنما دھرم ویر یادو نے اکھلیش یادو اور تیجسوی یادو کو مرکزی چہرہ بنا کر پوسٹر لگائے ، جن میں بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو کارٹون کے روپ میں دکھایا گیا ہے ، اور نیچے لکھا ہے الوداع چاچا’
جواب میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اپنے دفتر کے باہر پوسٹر لگایا جس پر لکھا ہے ‘نریندر-نتیش بھائی بھائی’
اسی کے ساتھ پٹنہ کی سڑکوں پر بہار کے سابق وزیر رنجیت سنگھ کے حوالے سے ایک اور پوسٹر لگایا گیا ہے ، جس میں نتیش کمار مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ لہرا رہے ہیں اور نیچے جملہ درج ہے ‘ٹائیگر ابھی زندہ ہے ‘ووٹوں کی گنتی 14 نومبر کو ہوگی۔
یہ بات طے ہے کہ انتخاب سے قبل جس نتیش کمار کی صحت پر سوال اٹھائے جا رہے تھے ، وہی ووٹنگ کے وقت سب سے اہم سیاسی چہرہ بن کر ابھرے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ بہار میں الزامات اور جوابی حملوں کے درمیاں چاچا جی کو الوداع کہا جائے گا یا پھر ٹائیگر دوبارہ تختِ اقتدار پر براجمان ہوگا۔









