‘نئی دہلی/13نومبر//
جب دہلی کی فضا زہریلی ہو چکی ہے اور فضائی معیار مسلسل ’انتہائی خطرناک‘ زمرے میں برقرار ہے، تو سپریم کورٹ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’صورتحال بہت سنگین ہے‘‘ اور صرف ماسک پہن لینا شہریوں کی صحت کے تحفظ کے لیے کافی نہیں۔
جسٹس پی ایس ناراسمہا اور جسٹس اے ایس چندرکر پر مشتمل بنچ ایک مقدمہ کی سماعت کر رہا تھا، جب انہوں نے وکلاء سے سوال کیا کہ وہ عدالت میں ورچوئل سماعت کے بجائے ذاتی طور پر کیوں پیش ہو رہے ہیں؟
جسٹس ناراسمہا نے کہا:’’آپ سب یہاں کیوں آئے ہیں؟ ہمارے پاس ورچوئل سماعت کی سہولت موجود ہے، براہِ کرم اس سے فائدہ اٹھائیں۔ یہ آلودگی… یہ مستقل نقصان پہنچائے گی۔‘‘
اس موقع پر سینئر وکیل اور راجیہ سبھا رکن کپل سبل نے عدالت کو بتایا، ’’ہم ماسک استعمال کر رہے ہیں۔‘‘
جس پر جسٹس ناراسمہا نے کہا:’’ماسک بھی کافی نہیں، یہ تحفظ فراہم نہیں کر سکتا۔ ہم چیف جسٹس سے بھی اس پر بات کریں گے۔‘‘
قومی دارالحکومت کے کئی علاقوں میںAQI 400 سے تجاوز کر گیا، جو ’انتہائی خطرناک‘ سطح ہے۔ آلودگی پر قابو پانے کے لیے گریڈیڈ رسپانس ایکشن پلان (GRAP) کے تیسرے مرحلے کی پابندیاں نافذ ہیں۔
GRAP-III کے تحت زیادہ تر غیر ضروری تعمیراتی اور انہدامی سرگرمیوں پر پابندی، BS-III پٹرول اور BS-IV ڈیزل گاڑیوں کی نقل و حرکت پر قدغن، اور پانچویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے آن لائن کلاسز کا حکم شامل ہے۔
سپریم کورٹ نے پنجاب اور ہریانہ کی حکومتوں کو حکم دیا ہے کہ وہ فصلوں کی باقیات جلانے کو روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر اسٹیٹس رپورٹ داخل کریں — کیونکہ یہ دہلی کی آلودگی کی بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔
عدالت کی معاونِ خصوصی سینئر وکیل اپراجتا سنگھ نے اس سے قبل سرکاری AQI اعداد و شمار میں تضادات کی نشاندہی کی تھی۔
یہ معاملہ اب پیر کے روز دوبارہ سنا جائے گا۔









