جموں/۱۳نومبر
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر کے ہر شہری کو دہشت گردی سے جوڑنا درست نہیں، کیونکہ ہر کشمیری کو شک کی نظر سے دیکھنے کا رویہ لوگوں کو صحیح راستے پر قائم رکھنا مشکل بنا دیتا ہے۔
جموں میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ انہوں نے لال قلعہ دھماکے کی مذمت پہلے ہی دن کر دی تھی۔
وزیر اعلیٰ نے کہا’’اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے، کم ہے۔ بے گناہوں کا اس طرح قتل کسی بھی مذہب میں جائز نہیں۔ تحقیقات جاری ہے، اور تمام مجرموں کو سزا ملنی چاہیے‘‘۔
عمرعبداللہ نے زور دے کر کہا کہ جموں و کشمیر کا ہر شخص دہشت گرد نہیں۔’’یہ صرف چند لوگ ہیں جو یہاں امن اور بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چند افراد کے اعمال کی بنیاد پر پوری برادری کو بدنام کرنا یا مشکوک قرار دینا نقصان دہ ہے۔ان کاکہنا تھا’’بدقسمتی سے جب ہم ہر کشمیری… خاص طور پر کشمیری مسلمان … کو شک کی نگاہ سے دیکھنے لگتے ہیں اور انہیں دہشت گرد کے طور پر پیش کرتے ہیں، تو لوگوں کو صحیح راستے پر رکھنا بہت مشکل ہو جاتا ہے‘‘۔
وزیر اعلیٰ نے زور دیا کہ دہلی دھماکے میں ملوث افراد کو سخت سزا ملنی چاہیے، مگر بے گناہوں کو ہراساں نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا’’کبھی کبھی تعلیم یافتہ لوگ بھی ایسے کاموں میں ملوث پائے جاتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ سب قصوروار ہیں۔ بے گناہوں کو الگ رکھا جانا چاہیے‘‘۔
جب عمر عبداللہ سے سری نگر کے ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے ڈاکٹر نثار الحسن ڈار کی گرفتاری کے بارے میں سوال کیا گیا‘ جنہیں ۲۰۲۳ میں لیفٹیننٹ گورنر نے مبینہ دہشت گردی کے روابط پر برطرف کیا تھا‘ تو انہوں نے کہا’’اس میں نیا کیا ہے؟ ہم نے پہلے بھی یونیورسٹی کے پروفیسروں کو ایسے معاملات میں دیکھا ہے۔ مجھے ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر بھی یاد ہے۔ کہاں لکھا ہے کہ تعلیم یافتہ لوگ غلط راستے پر نہیں جا سکتے‘‘؟
ان کاکہنا تھااگر آپ کے پاس ثبوت تھے کہ ان کے دہشت گردوں سے تعلقات ہیں، تو آپ نے وہ ثبوت عدالت میں کیوں نہیں پیش کیے؟ صرف نوکری سے نکال دینا معاملے کا حل نہیں … آج ہم اسی کا نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔‘‘
ڈاکٹر ڈار، جو سری نگر کے نوگام علاقے سے تعلق رکھتے ہیں، ان آٹھ گرفتار شدہ افراد میں شامل ہیں جنہیں دہشت گرد نیٹ ورک کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ۱۰نومبر کو دہلی کے لال قلعے کے قریب ایک دھماکہ خیز مواد سے بھری کار میں دھماکہ ہوا، جس میں ۱۳؍ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔
کار جنوبی کشمیر کے پلوامہ کے ڈاکٹر عمر نبی چلا رہے تھے، جو اب کشمیر، ہریانہ اور اتر پردیش میں پھیلے ایک دہشت گرد نیٹ ورک کے کلیدی رکن کے طور پر سامنے آئے ہیں۔
یہ دھماکہ اس وقت ہوا جب فریدآباد میں ایک اور کشمیری ڈاکٹر مزمل گنائی کے کرایے کے مکان سے تقریباً ۳۶۰ کلو مشتبہ امونیم نائٹریٹ اور اسلحہ و گولہ بارود برآمد کیا گیا۔
مزمل ان آٹھ گرفتار افراد میں شامل ہیں‘ جن میں سات کشمیری ہیں‘جن پر الزام ہے کہ وہ جیشِ محمد سے وابستہ بین الریاستی ’وائٹ کالر‘دہشت گرد گروہ کا حصہ تھے۔ویب ڈیسک










