جموں/۱۳ نومبر
جموںکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر‘ منوج سنہا نے دہشت گردی کو ترقی کا دشمن قرار دیتے ہوئے اس کے مکمل خاتمے کیلئے اجتماعی کوششوں پر زور دیا ہے ۔
لیفٹیننٹ گورنر‘جو آج جموں یونیورسٹی کے ۱۹ویں (دوسرے خصوصی) دیکشانت سماروہ کی صدارت کررہے تھے نے اپنے خطاب میں کہا کہ سیکورٹی فورسز دہشت گردی کے نیٹ ورک کو تباہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں لیکن معاشرے کو دہشت گردوں کے ہمدردوں کے خلاف کھڑا ہونا ہوگا۔
سنہا نے کہا ’’معاشرے کو دہشت گردی کا فعال طور پر مقابلہ کرنا چاہیے کیونکہ یہ ایک ہمہ گیر چیلنج ہے اور معاشرہ مشتبہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کی شناخت، اطلاع دینے اور انتہا پسندی کے رجحانات کے سدباب میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ اگر لوگ دہشت گردوں کے خلاف مضبوطی سے نہیں کھڑے ہوئے تو یہ معاشرے کے وجود کے لیے خطرہ بن جائے گا اور اس کے استحکام، امن و ترقی کو تباہ کر دے گا۔
سنہا نے کہا، ’’میں باشعور شہریوں سے اپیل کرتا ہوں کہ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ وہ ان لوگوں کو بے نقاب کریں جو دہشت گردوں کو پناہ دیتے ہیں یا انتہا پسندانہ نظریات کو فروغ دیتے ہیں۔ آپ کو ایسے عناصر کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔‘‘
ایل جی نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی امن اور ترقی کے لیے بنیادی خطرہ ہے اور جموں و کشمیر کے عوام اس کی تباہ کاریوں کو تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جھیل رہے ہیں۔
ان کاکہنا تھا’’لیکن اب یہاں کے نوجوان ملک کے دیگر حصوں کے نوجوانوں کی طرح بہتر زندگی اور کیریئر کے خواب دیکھ رہے ہیں اور ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔‘‘
اپنے خطبہ میں لیفٹیننٹ گورنر نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں تبدیلی کو اپنانے کی ضرورت پر زور دیا اور اساتذہ سے کہا کہ وہ مہارت پر مبنی نصاب، بین المضامینی تعاون اور بدلتے رجحانات کے ساتھ ہم آہنگی پر توجہ دیں تاکہ بھارت کی معیشت اور سماج کی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا، ’’تحقیقی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور اس کی توجہ کو نتائج پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے، جس کے لیے جدید ترین ٹیکنالوجیز سے استفادہ کیا جانا چاہیے۔ مصنوعی ذہانت آج ایک حقیقت ہے، محض تکنیکی اصطلاح نہیں، اور جتنی جلد ہم یہ تسلیم کرلیں کہ ٹیکنالوجی اور انسانی صلاحیتوں کے درمیان متوازن امتزاج پیدا کرنا ضروری ہے، اتنی ہی جلد ہم خود کو جدید تبدیلیوں کے مطابق ڈھال سکیں گے۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے طلبہ کے لیے زندگی کے سفر میں رہنمائی کے پانچ بنیادی اصول پیش کیے۔
سنہا نے کہا، ’’پہلا، زندگی میں کامیابی کے لیے عاجزی، سیکھنے کا جذبہ اور محنت کا اصول کبھی نہ بھولیں۔ آپ کی ڈگری پہلی بار مواقع کے دروازے کھولے گی لیکن مستقبل میں لامتناہی مواقع آپ کی صلاحیت، عزم، محنت، دوبارہ مہارت حاصل کرنے اور تبدیلی کو اپنانے کے جذبے سے ممکن ہوں گے۔
ان کاکہنا تھا’’دوسرا، مہربان اور ہمدرد بنیں۔ مہارت آپ کو ملازمت دلائے گی لیکن آپ کا کردار اور نظریات آپ کی ترقی کو یقینی بنائیں گے۔ آپ کے سفر میں سنسکار، دیانتداری، اعتبار اور بھروسہ آپ کے کیریئر کو کسی بھی سند سے زیادہ متعین کریں گے‘‘۔
ایل جی نے کہا’’تیسرا، زندگی میں سیکھنا کبھی نہ چھوڑیں۔ پیشہ ورانہ دنیا ان لوگوں کو انعام دیتی ہے جو مہم جو، سیکھنے کے لیے تیار، تجربہ کرنے والے، حالات کے مطابق ڈھلنے والے اور غلطیوں کو مہارت میں بدلنے والے ہوں۔
چوتھا، اندھا دھند یقین نہ کریں بلکہ جستجو کریں۔ یہ آپ کو نئی راہیں تلاش کرنے اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی میں مدد دے گا‘‘۔
سنہا نے کہا’’پانچواں، دوبارہ مہارت حاصل کرنے میں لچکدار اور ثابت قدم رہیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ اگر آپ کے اندر سیکھنے کا جذبہ ہے تو پوری دنیا ایک یونیورسٹی کیمپس بن جائے گی اور یہ جذبہ آپ کے خیالات کو حل میں بدلنے میں مدد کرے گا۔‘‘
لیفٹیننٹ گورنر نے جموں یونیورسٹی کو ملک کے تعلیمی منظرنامے میں اس کی شاندار خدمات پر مبارکباد پیش کی۔انہوں نے مختلف مضامین میں بہترین تعلیمی کارکردگی دکھانے والی طالبات کو بھی دلی مبارکباد دی۔
اس موقع پر وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ، چیف سکریٹری اٹل دولو، وائس چانسلر جموں یونیورسٹی پروفیسر امیش رائے، رکن جموں یونیورسٹی کونسل پروفیسر اشوک کول، مختلف جامعات کے وائس چانسلرز، شعبہ جات کے سربراہان، اساتذہ اور طلبہ موجود تھے۔
راجیہ سبھا کے ارکان پارلیمان انجینئر غلام علی کھٹانہ اور ست شرما، چیئرپرسن جموں و کشمیر وقف بورڈ ڈاکٹر درخشاں اندرابی، سینئر افسران اور معزز شہریوں نے بھی خصوصی دیکشانت سماروہ میں شرکت کی۔ندائے مشرق خبر










