سرینگر/۱۳نومبر
جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں پولیس نے جمعرات کے روز دہشت گردی کے ماحولیاتی ڈھانچے کے خلاف اپنی کارروائیوں کو جاری رکھتے ہوئے مختلف مشتبہ مقامات پر بیک وقت تلاشی کارروائیاں انجام دیں۔
یہ کارروائیاں اُن عناصر کے خلاف کی گئیں جو غیر قانونی اور ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث بتائے جا رہے ہیں، جن میں کالعدم تنظیم اور اس سے منسلک دیگر مشتبہ نیٹ ورک شامل ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق پلوامہ پولیس نے سیکورٹی فورسز کے ساتھ مل کر ضلع کے مختلف حساس علاقوں میں منظم انداز میں چھاپے مارے ، جن کا مقصد اُن افراد کی نشاندہی کرنا تھا، جو کسی بھی طرح سے دہشت گردی یا اشتعال انگیز سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران متعدد رہائشی اور تجارتی عمارتوں کی تلاشی لی گئی، مشتبہ افراد کے کوائف کی تصدیق کی گئی اور بعض مقامات سے قابلِ اعتراض مواد بھی ضبط کیا گیا۔
ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ یہ کارروائیاں طویل مدتی سیکورٹی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں جن کا مقصد ضلع میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا اور دہشت گردی کے معاون نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے ۔ ان کے بقول، پولیس نے حالیہ ہفتوں میں ایسے کئی نیٹ ورکس کو بے نقاب کیا ہے جو سوشل میڈیا اور خفیہ ذرائع کے ذریعے اشتعال انگیز مہمات چلا رہے تھے ۔
افسر نے مزید کہا’’پلوامہ پولیس عوام کے تعاون سے ایسے تمام عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گی جو خطے کے امن کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہماری توجہ صرف دہشت گردوں پر نہیں بلکہ اُن کے معاونین، فنانسنگ چینلز اور پروپیگنڈہ مشینری پر بھی مرکوز ہے ‘‘۔
ذرائع کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں پولیس نے نہ صرف مشتبہ افراد کے ٹھکانوں کی نشاندہی کی بلکہ کئی اہم ڈیجیٹل شواہد بھی اکٹھے کیے ہیں، جن کی بنیاد پر آئندہ دنوں میں مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔ سیکورٹی فورسز نے ان علاقوں میں نگرانی بڑھا دی ہے تاکہ کسی بھی مشکوک سرگرمی پر فوری کارروائی کی جا سکے ۔
پلوامہ پولیس نے ایک باضابطہ بیان میں کہا ہے کہ یہ کارروائیاں عوامی سلامتی کو یقینی بنانے اور غیر قانونی سرگرمیوں پر روک لگانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ پولیس فورس امن و امان کی بحالی کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گی اور کسی بھی ملک دشمن عنصر کو قانون کی گرفت سے بچنے نہیں دیا جائے گا۔
پولیس نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی یا شخص کے بارے میں فوری طور پر مقامی تھانے کو اطلاع دیں تاکہ وقت پر کارروائی ممکن ہو سکے ۔ پولیس کے مطابق، شہریوں کا تعاون ہی امن کی بنیاد کو مضبوط بناتا ہے اور دہشت گردی کے خلاف اجتماعی مزاحمت کو مؤثر بناتا ہے ۔
اس دوران بارہمولہ پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ضلع بھر دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کارروائیوں کو تیز کر دیا ہے تاکہ عوامی نظم و ضبط اور شہری اعتماد کے مجموعی ماحول کو مستحکم بنایا جا سکے ۔
پولیس نے کہا کہ بارہمولہ پولیس کے تمام یونٹس نے ۱۲نومبر کو ضلع بھر میں مربوط اور منصوبہ بند کارروائیاں انجام دیں جن کا مقصد اندرونی سیکورٹی ڈھانچے کو مضبوط بنانا، تخریبی اور قانون شکن عناصر کو بے اثر کرنا اورعوامی نظم و ضبط اور شہری اعتماد کے مجموعی ماحول کو مستحکم کرنا تھا۔
پولیس ترجمان نے بتایا کہ ان کارروائیوں کے دوران کئی اقدام کئے گئے ۔
ترجمان نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہا’’۶؍افراد جو تخریبی نیٹ ورکس سے وابستہ تھے ، کو پولیس اسٹینشوں میں لاکر پابند کیا گیا‘۲۲جائیدادوں کی تلاشی لی گئی جو اوور گرائونڈ ورکرس (او جی ڈبلیوز) سے منسلک تھیں‘۲۰؍او جی ڈبلیوز کو پابند کیا گیا جبکہ ۲کو پیشگی حراست کے تحت جیل بھیج دیا گیا‘‘۔
پولیس ترجمان نے کہا’’۲؍افراد جو یو اے پی اے کے تحت مقدمات میں ملوث تھے اور ضمانت پر تھے ، سے پوچھ گچھ کی گئی اور ان میں سے ایک کو قانون کے تحت پابند کیا گیا‘۸ضمانت یافتہ ہو اے پی اے ملزموں کی ضمانت کی منسوخی کیلئے شناخت کی گئی جن میں سے۲کے کیسز متعلقہ عدالت میں جمع کرائے گئے ، مختلف مقامات پر۱۶محاصرے اور تلاشی آپریشنز انجام دئے گئے ، ضلع بھر میں مختلف ناکوں پر ۲۹۲گاڑیوں کی مکمل جانچ پڑتال کی گئی‘۵؍افراد جو ای اینڈ آئی ایم سی او سے واسبتہ تھے اور۲؍؍افراد جو جماعت اسلامی سے وابستہ تھے ، کی تلاشی لی گئی تاکہ قانون کی پاسداری کو یقینی بنایا جا سکے اور۲یو اے پی اے کے مفرور ملزموں کا سراغ لگایا گیا اور ان کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی‘‘۔
ترجمان نے بتایا کہ یہ مربوط کارروائیاں ممکنہ سیکورٹی خطرات کو پیشگی روکنے ، تخریبی عناصر کو بے اثر کرنے اور ضلع عوامی نظم و نسق کے قیام کو یقینی بنانے کے لئے انجام دی گئیں۔انہوں نے کہا کہ بارہمولہ پولیس ضلع میں استحکام، سلامتی اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے لئے پر عزم ہے ۔یو این آئی










