بدھ, جولائی 22, 2026
  • ePaper
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار
No Result
View All Result
Mashriq Kashmir
No Result
View All Result
Home اہم ترین

’پتھراؤ معمولی عمل نہیں‘ سپریم کورٹ کا شبیر شاہ سے اظہارِ خیال

Nida-i-Mashriq by Nida-i-Mashriq
2025-11-11
in اہم ترین, تازہ تریں, مقامی خبریں
A A
ایس آئی امتحانی پرچے کا افشا:مرکزی ملزم کو ضمانت نہ مل سکی
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail

متعلقہ

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

نئی دہلی/۱۰ نومبر
’جموں و کشمیر میں پتھراؤ کوئی معمولی کارروائی نہیں ہے‘، سپریم کورٹ نے پیر کے روز یہ ریمارک دیتے ہوئے کشمیری علیحدگی پسند رہنما شبیر احمد شاہ سے کہا کہ وہ اپنا حراستی حکم نامہ حاصل کرنے کے لیے نیشنل کانفرنس (این سی) حکومت سے رجوع کریں۔
جسٹس وکرم ناتھ اور سندیپ ناتھ پر مشتمل بنچ نے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کو شبیر شاہ کے تازہ حلف نامے پر جواب دینے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیا، جب کہ سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے نئے بیان کردہ حقائق کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے پاکستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس سے روابط پر زور دیا۔
سینئر وکیل کولن گونزالویس، جو شبیر شاہ کی پیروی کر رہے تھے، نے عدالت کو بتایا کہ ان کے خاندان کو حراستی حکم نامہ فراہم نہیں کیا گیا اور وہ ۱۹۷۰ سے جاری کیے گئے حراستی احکامات کی تفصیلات چاہتے ہیں۔
مہتا نے اس دلیل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ دہلی ہائی کورٹ کے سامنے کبھی نہیں اٹھایا گیا تھا۔
بنچ نے کہا، ’’آپ حکومت سے کہیں کہ وہ آپ کو تفصیلات فراہم کرے۔ ضمانت کی کارروائی میں یہ کیوں پوچھ رہے ہیں؟ یہ پچاس سال پرانا معاملہ ہے‘‘۔
گونزالویس نے دلیل دی کہ شبیر شاہ گزشتہ ۳۹ سال سے ایک عام الزام، یعنی تقریروں کے بعد پتھراؤ کے واقعات کی بنیاد پر جیل میں ہیں۔جسٹس مہتا نے تبصرہ کیا، ’’اس ریاست میں پتھراؤ کوئی معمولی کارروائی نہیں ہے۔‘‘
سپریم کورٹ نے اس سے قبل شبیر شاہ کو دہشت گردی کی فنڈنگ کے مقدمے میں عبوری ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا۔
تاہم عدالتِ عظمیٰ نے قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے شبیر شاہ کی اس عرضداشت پر دو ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا، جس میں انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کے ۱۲ جون کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا جس کے تحت انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ شبیر شاہ کے دوبارہ غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور گواہوں پر اثرانداز ہونے کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔
شبیر شاہ کو این آئی اے نے ۴ جون ۲۰۱۹ کو گرفتار کیا تھا۔
این آئی اے نے ۲۰۱۷ میں ۱۲؍افراد کے خلاف ایک مقدمہ درج کیا تھا، جس میں الزام تھا کہ انہوں نے پتھراؤ، عوامی املاک کو نقصان پہنچانے اور حکومتِ ہند کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کے ذریعے فنڈز اکٹھا کرنے اور فراہم کرنے کی کوشش کی۔
الزام ہے کہ شبیر شاہ نے جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند یا عسکری تحریک کو فروغ دینے میں ’’نمایاں کردار‘‘ ادا کیا، عوام کو نعرہ بازی اور علیحدگی کے حق میں اکسایا، ہلاک شدہ عسکریت پسندوں کو ’’شہید‘‘ قرار دے کر ان کے خاندانوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا، حوالہ کے ذریعے رقوم وصول کیں اور لائن آف کنٹرول (ایل او سی) تجارت کے ذریعے فنڈز اکٹھے کیے جو مبینہ طور پر تخریبی اور عسکری سرگرمیوں کو ہوا دینے کے لیے استعمال کیے گئے۔
ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ آئین اظہارِ رائے کی آزادی کا حق دیتا ہے، لیکن اس پر عوامی نظم، شرافت، اخلاقیات یا کسی جرم پر اکسانے جیسے معقول پابندیاں بھی عائد ہیں۔
عدالت نے کہا، ’’یہ حق اس بہانے استعمال نہیں کیا جا سکتا کہ ریلیوں کے دوران کوئی شخص اشتعال انگیز تقاریر کرے یا عوام کو ایسی غیر قانونی سرگرمیوں پر اکسائے جو ملک کے مفاد اور سالمیت کے لیے نقصان دہ ہوں۔‘‘
ہائی کورٹ نے۷ جولائی ۲۰۲۳ کے ٹرائل کورٹ کے اس حکم کے خلاف شبیر شاہ کی اپیل مسترد کر دی تھی، جس میں انہیں ضمانت دینے سے انکار کیا گیا تھا۔
ہائی کورٹ نے سنگین الزامات کی نوعیت کے پیش نظر شبیر شاہ کی متبادل درخواست… ’’گھر پر نظر بندی‘‘…کو بھی رد کر دیا تھا۔
عدالت نے نوٹ کیا کہ وہ غیر قانونی تنظیم جموں و کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (جے کے ڈی ایف پی) کے چیئرمین ہیں۔
ہائی کورٹ نے۲۴ زیرِ التوا مقدمات کی تفصیلی جدول کا بھی جائزہ لیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ کئی ایسے فوجداری مقدمات میں ملوث رہے ہیں جن کی نوعیت یکساں ہے اور جو جموں و کشمیر کو بھارت سے الگ کرنے کی سازش سے متعلق ہیں۔ (ایجنسیاں)

ShareTweetSendShareSend
Previous Post

تاریخ پیدائش تبدیل کرنے پر سابق پولیس افسر کو سزا:کرائم برانچ

Next Post

سری نگر میں رواں سیزن کی سرد ترین رات ریکارڈ

Nida-i-Mashriq

Nida-i-Mashriq

Related Posts

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج
اہم ترین

 ریاستی درجے کی بحالی‘این سی کادہلی میں احتجاج

2026-07-21
جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری
اہم ترین

جموں خطے میں بارش اور لینڈ سلائیڈنگ کی تباہ کاریاں جاری

2026-07-21
 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب
اہم ترین

 بارش سے سرینگر کے کئی علاقے زیرِ آب‘ نکا س آب کا ناقص نظام پھر بے نقاب

2026-07-21
جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی
اہم ترین

جموں کشمیر میں منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی

2026-07-21
 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر
اہم ترین

 دہلی میں ریاستی درجے کی بحالی کا این سی احتجاج سی جے پی مظاہرے کی نذر

2026-07-21
 موجودہ شکل میں سندھ   طاس معاہدہ دوبارہ نافذ   نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع
اہم ترین

 موجودہ شکل میں سندھ  طاس معاہدہ دوبارہ نافذ  نہیں ہوگا:حکومتی ذرائع

2026-07-21
چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا  نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے
اہم ترین

چنار بک فیسٹیول میں شبھانشو شکلا نے خلائی سفر کے دلچسپ قصے سنائے

2026-07-21
سے ۵۱اگست تک جموں صوبے میں شدید بارشوں کا امکان خراب موسم کے باعث پونچھ میں دوسرے روز بھی اسکول بند رہے
اہم ترین

 شدید بارش، آندھی اور بجلی گرنے کے خدشات کے باعث بجلی کے کھمبوں، تاروں اور  ٹرانسفارمروںسے دور رہنے کی اپیل 

2026-07-21
Next Post
کشمیر میں خشک موسم کے بیچ سردی تیز

سری نگر میں رواں سیزن کی سرد ترین رات ریکارڈ

  • ePaper

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

No Result
View All Result
  • پہلا صفحہ
  • تازہ تریں
  • اہم ترین
  • مقامی خبریں
  • قومی خبریں
  • عالمی خبریں
  • اداریہ
  • سچ تو یہ ہے
  • رائے
  • بزنس
  • کھیل
  • آج کا اخبار

© Designed by GITS - Nida-i-Mashriq

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.