بڈگام/ ۸ نومبر
پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے ہفتہ کے روز نیشنل کانفرنس (این سی) پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس جماعت نے انتخابات کے دوران عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا نہیں کیا اور عوام کے ساتھ ’دھوکہ اور فریب‘ کیا ہے۔
ہفتہ کوبڈگام میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ این سی کو اقتدار میں آئے ایک سال مکمل ہوچکا ہے لیکن مفت گیس، مفت بجلی اور مفت راشن جیسے کسی وعدے پر بھی عمل نہیں ہوا۔
پی ڈی پی صدر نے کہا’’ایک پارٹی جاتی ہے، دوسری آتی ہے، اور عوام کو یقین دلایا جاتا ہے کہ اب حالات بدلیں گے۔ ایک سال پہلے انہوں نے (این سی) کہا تھا کہ وہ بجلی کے میٹر نہیں لگنے دیں گے بلکہ انہیں دریا میں پھینک دیں گے‘‘۔
سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’انہوں نے کہا تھا کہ۲۰۰ یونٹ بجلی مفت دیں گے، غریبوں کو مفت گیس فراہم کریں گے، اور مفت راشن دیں گے۔ بتائیے، ان وعدوں کا کیا ہوا؟‘‘
محبوبہ نے مزید کہا کہ این سی نے ریزرویشن سے متعلق ناانصافیوں کو دور کرنے اور عوام کو یقین دلانے کا وعدہ کیا تھا کہ چراگاہ کی زمین (کاہچرائی) پر بنے مکانات منہدم نہیں کیے جائیں گے،’’مگر آج تک ان میں سے کوئی یقین دہانی پوری نہیں ہوئی‘‘۔
این سی کے نائب صدر عمر عبداللہ پر براہِ راست تنقید کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا’’عمر صاحب نے خود کہا تھا کہ وہ گاندربل اور بڈگام، دونوں حلقوں سے الیکشن لڑیں گے اور جس جگہ سے زیادہ ووٹ ملیں گے، وہی نشست رکھیں گے۔ انہیں بڈگام سے زیادہ ووٹ ملے، مگر انہوں نے یہ نشست چھوڑ دی۔ بتائیے، انہوں نے بڈگام کے لیے کیا کیا؟‘‘
محبوبہ نے کہا کہ ایک طرف سرکاری ملازمین کو برطرف کیا جا رہا ہے، گھروں کو منہدم کیا جا رہا ہے، چھاپے مارے جا رہے ہیں، مگر بڈگام کے حالات پر کسی کی توجہ نہیں۔
ان کاکہنا تھا’’عمر صاحب دو دن پہلے بڈگام آئے تھے، مگر پچھلے ایک سال میں کیا انہوں نے یہاں ایک بھی اجلاس بلایا؟ کیا انہوں نے پوچھا کہ بڈگام کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے جہاں آج تک نیا ایم ایل اے بھی نہیں؟ ایسا کچھ نہیں ہوا‘‘۔
پی ڈی پی صدر نے الزام لگایا کہ این سی کے نمائندے اب صرف انتخابی مقاصد کے لیے بڈگام کا رخ کر رہے ہیں اور عوام کے لیے کوئی عملی کام نہیں کر رہے۔انہوں نے کہا’’وہ کہتے ہیں کہ سب کچھ عوام کے لیے محفوظ رکھا گیا ہے، لیکن بتائیے، کیا انہوں نے واقعی بڈگام کے عوام کے بارے میں سوچا؟‘‘
محبوبہ نے عوام کو یاد دلایا کہ بڈگام کا نیشنل کانفرنس سے ایک طویل سیاسی رشتہ رہا ہے۔’’سنہ ۱۹۷۷سے آپ این سی کو ووٹ دیتے آئے ہیں۔ آپ نے آغا محمود صاحب کو کئی بار ایم ایل اے اور وزیر بنایا، حتیٰ کہ ایک وقت میں وزیر اعلیٰ بھی بڈگام سے تھا۔ لیکن بدلے میں آپ کو کیا ملا؟ کچھ نہیں۔ سڑکوں کی حالت خراب ہے، لوگوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی‘‘۔
آخر میں انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گزشتہ تجربات سے سبق حاصل کریں اور حقیقی تبدیلی کے لیے پی ڈی پی کا ساتھ دیں۔
(ندائے مشرق خبر)










