وارانسی/۸نومبر
وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتصادی ترقی کے لیے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وندے بھارت، نمو بھارت اور امرت بھارت جیسی ٹرینیں ہندوستانی ریلوے کے اگلے سلسلے کی بنیاد رکھ رہی ہیں۔
ہندوستان کے جدید ریلوے بنیادی ڈھانچے کو وسعت دینے کی سمت ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے آج اترپردیش کے وارانسی سے چار نئی وندے بھارت ایکسپریس ٹرینوں کو روانہ کیا۔
اس موقع پر اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مسٹر مودی نے تمام معزز مہمانوں کا خیرمقدم کیا اور بابا وشوناتھ کی مقدس نگری وارانسی کے تمام کنبوں کو اپنی جانب سے مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ دیو دیوالی کے موقع پر جو غیر معمولی جشن دیکھنے کو ملا، وہ وارانسی کی روحانیت اور توانائی کا مظہر ہے ۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ آج کا دن بھی ایک مقدس اور مبارک موقع ہے اور اس ترقی کے تہوار کے لیے سبھی کو اپنی نیک خواہشات پیش کیں۔
وزیر اعظم نے نشاندہی کی کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں معاشی ترقی کی ایک بڑی قوت مضبوط بنیادی ڈھانچہ رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک نے نمایاں ترقی حاصل کی، وہاں انفراسٹرکچر کی ترقی نے کلیدی کردار ادا کیا۔ مسٹر مودی نے کہا کہ ہندوستان بھی تیزی سے اسی راہ پر گامزن ہے ۔
اسی تناظر میں وزیر اعظم نے ملک کے مختلف علاقوں میں نئی وندے بھارت ٹرینوں کے آغاز کا اعلان کیا۔ بنارس۔کھجوراہو وندے بھارت کے علاوہ انہوں نے فیروزپور۔دہلی وندے بھارت، لکھنؤ۔سہارنپور وندے بھارت اور ارناکولم۔بنگلورو وندے بھارت ٹرینوں کو بھی روانہ کیا۔ ان چار نئی ٹرینوں کے ساتھ ملک میں چلنے والی وندے بھارت ٹرینوں کی کل تعداد۱۶۰سے تجاوز کر گئی ہے ۔ وزیر اعظم نے ان ٹرینوں کے آغاز پر وارانسی کے عوام اور پورے ملک کے شہریوں کو مبارکباد دی۔
وزیر اعظم نے ہندوستان میں زیارت کے اکثر نظر انداز کیے جانے والے معاشی پہلو کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ۱۱برسوں میں اترپردیش میں ترقیاتی اقدامات نے زیارت کے تصور کو ایک نئی بلندی تک پہنچا دیا ہے ۔ صرف گزشتہ سال ہی۱۱کروڑ عقیدت مند بابا وشوناتھ کے درشن کے لیے وارانسی آئے ۔ انہوں نے بتایا کہ اجودھیا میں رام مندر کی تعمیر کے بعد اب تک۶کروڑ سے زائد افراد نے رام للا کے مندر میں حاضری دی ہے ۔
مودی نے کہا کہ ان زائرین نے اتر پردیش کی معیشت میں ہزاروں کروڑ روپے کا اضافہ کیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس بڑھتی ہوئی آمد سے ریاست بھر میں ہوٹلوں، تاجروں، ٹرانسپورٹ کمپنیوں، مقامی فنکاروں اور کشتی بانوں کو مسلسل روزگار کے مواقع حاصل ہوئے ہیں۔ نتیجتاً وارانسی کے سیکڑوں نوجوان اب ٹرانسپورٹ سروسز سے ، بنارسی ساڑی کے کاروبار تک نئے منصوبے شروع کر رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ یہ ترقی اتر پردیش اور وارانسی میں خوشحالی کے دروازے کھول رہی ہے ۔
وزیر اعظم نے مزید کہا ’’ایک ترقی یافتہ وارانسی کے ذریعے ترقی یافتہ ہندوستان‘‘کے منتر کو حاصل کرنے کے لیے شہر میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر و توسیع مسلسل جاری ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ وارانسی میں معیاری اسپتالوں کے قیام اور توسیع کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی بہتری، گیس پائپ لائن نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں نمایاں پیش رفت ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ رسیل وے (روپ وے ) منصوبے پر تیزی سے کام ہو رہا ہے ، جبکہ گنجاری اور سگرا جیسے اسٹیڈیم جدید کھیلوں کے ڈھانچے کی مثال ہیں۔ وزیر اعظم نے زور دیا کہ مقصد یہ ہے کہ وارانسی آنا، یہاں رہنا اور اس شہر کا تجربہ ہر شخص کے لیے ایک منفرد اور یادگار تجربہ بنے ۔
مودی نے کہا کہ حکومت وارانسی میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے لگاتار کام کر رہی ہے ۔ انہوں نے ۱۰سے۱۱سال پہلے کی حالت کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سنگین بیماریوں کے علاج کے لیے صرف بنارس ہندو یونیورسٹی (بی ایچ یو) ہی واحد سہارا تھی اور مریضوں کی بھیڑ کی وجہ سے کئی افراد کوپوری رات انتظار کے باوجود علاج نہیں مل پاتا تھا۔ کینسر جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے لوگوں کو اپنی زمین اور کھیت فروخت کر کے ممبئی جانا پڑتا تھا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ان حالات کو بدلنے کے لیے ان کی حکومت نے مسلسل کوششیں کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آج مہامنا کینسر اسپتال، آنکھوں کے علاج کے لیے شنکر نیترالیہ، بی ایچ یو کا جدید ٹراما سینٹر اور سینٹنری اسپتال اور پانڈے پور کا ڈویژنل اسپتال، یہ تمام ادارے وارانسی، پوروانچل اور آس پاس کی ریاستوں کے لیے نعمت بن چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آیوشمان بھارت اسکیم اور ان اسپتالوں میں قائم جن اوشدھی کیندروں کی بدولت لاکھوں غریب مریض کروڑوں روپے کی بچت کر رہے ہیں۔ اس سے عوامی پریشانیوں میں کمی آئی ہے اور وارانسی اب پورے خطے کے ’ہیلتھ کیپیٹل‘کے طور پر ابھر رہی ہے ۔
(ایجنسیز)










