سرینگر/۶نومبر
ہندوستان کے معروف ترین خفیہ کاروں میں شمار ہونے والے وکرم سود، جنہوں نے اپنی پوری پیشہ ورانہ زندگی خفیہ دنیا کے اندھیروں میں گزاری، نے آج کی دنیا کی حقیقتوں پر کھل کر روشنی ڈالی اور یہ بھی بتایا کہ بھارت کو طویل المدت حکمتِ عملی کس طرح اختیار کرنی چاہئے۔
وکرم سود، جنہوں نے ۳۱ سالہ خدمات کے بعد ۲۰۰۳ میں ریسرچ اینڈ اینالسس ونگ (را) کے سربراہ کی حیثیت سے ریٹائرمنٹ لی، نے امریکہ، چین، روس، پاکستان، افغانستان اور بھارت کے درمیان ابھرتے ہوئے تعلقات کے تناظر میں اپنی گہری بصیرت پیش کی۔
سود کے مطابق چین کی نظر میں ڈونالڈ ٹرمپ کے دورِ حکومت میں امریکہ کمزور ہوتا دکھائی دیتا ہے، ’’اور اس سے بھارت ایک نہایت نازک پوزیشن میں آ جاتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’یہ نہیں کہ امریکہ ہمارا سب سے بڑا دوست تھا، مگر چین وہ ملک ہے جس نے کبھی ہمارے تئیں اپنی نفرت یا عدم اعتماد چھپایا نہیں۔ وہ ہماری سرحد پر ہے، ہمیں کسی بھی وقت پریشانی میں ڈال سکتا ہے۔ اس لحاظ سے وہ فوری خطرہ ہے۔ امریکہ ایک بعید خطرہ ہے، جو کسی حد تک ہماری زندگی کو مشکل بنا سکتا ہے‘‘۔
اپنی نئی کتاب ’گریٹ پاور گیمز‘ کے حوالے سے این ڈی ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں سود نے کہا’’ہماری چین کے ساتھ سرحد ابھی تک متعین نہیں ہوئی ہے۔ یہ ایک ایسا معاملہ ہے جسے دونوں ممالک اپنی ضرورت کے مطابق اچھال سکتے ہیں‘‘۔انہوں نے واضح کیا کہ خطرے کی نوعیت جاننے کے لیے تمام ممالک کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
سود نے کہا’’آپ کو اس شخص سے کسی نہ کسی نوعیت کا تعلق رکھنا ہوگا جو واقعی طاقتور ہے۔ پاکستان ایک مسئلہ ضرور ہے، مگر ہمیں اسے مختلف انداز میں سنبھالنا ہے۔ لیکن چین وہ ملک ہے جو ہمیں حقیقی نقصان پہنچا سکتا ہے۔ ہمیں دیکھنا ہوگا کہ سب سے زیادہ نقصان پہنچانے کی صلاحیت کس کے پاس ہے‘‘۔
را کے سابق سربراہ نے کہا’’امریکہ ایک ہے، چین دوسرا۔ روس بھی ہو سکتا ہے مگر وہ ایسا نہیں کرے گا۔ پاکستان ہمیں چبھتا رہے گا، مگر چین ہی اصل خطرہ ہے۔ باقی دونوں پر بھی ہمیشہ نظر رکھنی چاہئے‘‘۔انہوں نے مشورہ دیا کہ بھارت کو امریکہ کا سنجیدگی سے مطالعہ کرنا چاہئے۔
سود نے کہا’’ہم نے امریکہ کو صرف سطحی طور پر سمجھا ہے۔ اس کی مکمل تاریخ نہیں پڑھی۔ ہمارا رویہ ہمیشہ سرسری رہا ہے۔ ہم صرف ٹائم میگزین، وائس آف امریکہ اور نیویارک ٹائمز کے ذریعے رائے قائم کرتے ہیں‘‘۔
جب بات ڈونالڈ ٹرمپ کے بھارت سمیت دیگر ممالک پر محصولات بڑھانے کی آئی تو سود نے کہا کہ امریکہ اپنی برتری ثابت کرنا چاہتا ہے، مگر دراصل وہ ’کچھ حد تک خوفزدہ‘ہے کہ کہیں وہ دوسرے یا تیسرے نمبر پر نہ چلا جائے۔
سابق را سربراہ نے کہا’’یہ محصولات دراصل یہ پیغام دینے کے لیے لگائے گئے کہ امریکہ اب بھی نمبر ایک طاقت ہے۔ پہلے سخت وار کرو، پھر فتح کا اعلان کرو۔ مگر یہ پالیسی اس حد تک کامیاب نہیں رہی جتنی ہونی چاہئے تھی۔ اس نے الٹا نقصان کیا کیونکہ جب آپ محصولات بڑھاتے ہیں تو اپنے ہی ملک میں قیمتیں بھی بڑھا دیتے ہیں۔ آپ میرا مال بند کر دو گے، مگر اگر وہی چیز آپ کے ملک میں دستیاب نہیں تو آپ متبادل کیا دو گے؟ آپ کے پاس وہ پیداواری صلاحیت نہیں‘‘۔
سود کے مطابق امریکہ اب صنعتی ملک نہیں رہا بلکہ صرف خدمات اور اشیاء کی منڈی ہے۔
جب پاکستان کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران اس کا ایٹمی بلیک میل ’بالکل ایسے تھا جیسے کوئی بچہ کونے میں پھنس جائے اور کہے ‘مجھے جانے دو ورنہ میں یہ کر دوں گا‘‘۔انہوں نے کہا’’میرا نہیں خیال کہ دنیا میں کوئی اتنا پاگل ہے جو ایٹمی بٹن دبا دے‘‘۔
سابق را سربراہ نے کہا نے دوٹوک انداز میں کہا’’پاکستان کبھی نہیں بدلے گا۔ اس کی بنیاد اسلام کے نام پر رکھی گئی ہے۔ ان کا ذہنیت وہی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ وہ ہمیں شکست نہیں دے سکتے، لیکن مسئلہ پاکستان ہمیشہ رہے گا۔ ہمیں ہمیشہ آپریشن سندور جیسے حالات کے لیے تیار رہنا چاہئے‘‘۔
سود نے مزید کہا کہ پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے امریکہ دورے کے باوجود واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات ’صرف وقتی‘ ہیں۔ان کاکہنا تھا’’دونوں اپنے اپنے مفاد کے لیے کھیل رہے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ سب پھر وہیں آ جائے گا، صفر پر‘‘۔
داخلی سطح پر بھی سود نے اشارہ دیا کہ بعض ’نوجوانوں کی بغاوتوں‘ کے پیچھے بیرونی ہاتھ کارفرما ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا’’کچھ لوگ یہ تاثر پھیلا رہے ہیں کہ نوجوان اپنی طرزِ زندگی سے اکتا گئے ہیں اور تبدیلی چاہتے ہیں۔ لیکن وہ کامیاب تبھی ہوتے ہیں جب کوئی بیرونی قوت انہیں مشورہ اور مدد دیتی ہے۔ پھر وہ کسی چوک پر جھگڑا، فساد یا ہنگامہ برپا کر دیتے ہیں۔ ایسی تحریکوں کو منظم کرنے کیلئے رہنمائی اور قیادت درکار ہوتی ہے‘‘۔
افغانستان کے حوالے سے سوال پر، جہاں طالبان کی پالیسیوں سے بھارت اصولی اختلاف رکھتا ہے، سود نے کہا ’’بین الاقوامی سیاست میں سب کچھ مفاد پر مبنی ہوتا ہے‘‘۔انہوں نے کہا’’یہ وقت ہے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کا۔ اگر امریکہ شام میں ایک دہشت گرد کو صدر مان سکتا ہے، تو ہم طالبان سے بات کیوں نہیں کر سکتے‘‘؟
سابق را سربراہ نے کہا نے واضح الفاظ میں کہا’’ہم پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ ہم ایسے لوگوں سے تعلقات رکھ رہے ہیں جو عورتوں سے بدسلوکی کرتے ہیں۔ یہ افسوسناک ہے، مگر میری تزویراتی ضرورت ہے کہ افغانستان میرے ساتھ رہے۔ اگر وہ یہ کہنا شروع کر دے کہ ان کا ملک دریائے سندھ تک پھیلا ہوا ہے، تو یہ میرے حق میں ہے۔ میں یہ سلسلہ جاری رکھوں گا‘‘۔
اپنے کیریئر کے دو بڑے چیلنجوں کا ذکر کرتے ہوئے وکرم سود نے کہا کہ کرگل جنگ اور انڈین ایئرلائنز کے طیارے آئی سی۸۱۴ کے اغوا کے واقعات سب سے زیادہ مشکل تھے۔
سود نے کہا’’کرگل کے بارے میں بعض ماہرین نے کہا کہ یہ خفیہ ناکامی تھی، مگر میں اتنا سخت نہیں کہوں گا۔ خفیہ معلومات ہمیشہ کامل نہیں ہوتیں۔ کافی اشارے موجود تھے کہ کچھ ہونے والا ہے۔ اور آئی سی۸۱۴ کے معاملے میں تو کسی کو علم ہی نہیں تھا۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔










