سرینگر/۶ نومبر
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے جمعرات کو جموںکشمیر میں متعدد مقامات پر بیک وقت چھاپے مارے، جن میں سابق وزیر بابو سنگھ کی رہائش گاہ بھی شامل ہے۔
یہ کارروائی منشیات سے منسلک منی لانڈرنگ کی ایک تحقیقات کے سلسلے میں کی گئی، سرکاری ذرائع نے بتایا۔
ذرائع کے مطابق سرینگر میں چھ اور جموں میں دو مقامات پر چھاپے منی لانڈرنگ ایکٹ (پی ایم ایل اے) کی دفعات کے تحت مارے گئے۔
یہ معاملہ مارچ ۲۰۲۲ میں اْس وقت سامنے آیا تھا جب جموں و کشمیر پولیس نے محمد شریف شاہ نامی شخص کو گرفتار کیا، جو مبینہ طور پر ۹ء۶ لاکھ روپے کی حوالہ رقم کشمیر سے جموں پہنچانے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ رقم سابق وزیر جتندر سنگھ عرف بابو سنگھ کو دی جانی تھی۔
تحقیقاتی ایجنسیوں کے مطابق یہ رقم جموں میں علیحدگی پسند اور تخریبی سرگرمیوں کو مالی معاونت فراہم کرنے کے لیے بھیجی جا رہی تھی۔
ایجنسیوں نے ایک مبینہ نیٹ ورک کا انکشاف کیا جس میں سیف الدین، فاروق احمد نیکو اور مبشر مشتاق ففو شامل تھے۔
پاکستان میں بیٹھے آپریٹرز کے ذریعے یہ افراد ایک منشیات،دہشت ماڈیول چلا رہے تھے تاکہ تخریبی سرگرمیوں کے لیے فنڈ اکٹھا کیا جا سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ نیکو نے ۲۰۲۱۔۲۰۲۲ میں پاکستان سے ہیروئن کی اسمگلنگ کے ذریعے حاصل شدہ رقم (تقریباً ۲ کروڑ روپے) سرینگر کے بینک کھاتوں میں جمع کرائی۔ بعد میں یہ رقم دبئی میں موجود بھارتی شہریوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کی گئی جو ’غیر قانونی مالیاتی ایجنٹ‘ کے طور پر استعمال ہو رہے تھے تاکہ رقم کے اصل ماخذ کو چھپایا جا سکے۔
ان ’جرائم کی آمدنی‘کو دبئی میں نکال کر حزب المجاہدین کے دہشت گردوں تک پہنچایا گیا جو پاکستان سے کارروائیاں چلا رہے تھے، ای ڈی ذرائع نے بتایا۔
خصوصی تفتیشی ایجنسی (ایس آئی اے) نے حوالہ رقم کیس میں سابق وزیر سمیت ۱۲ ملزمان کے خلاف چارج شیٹ دائر کی تھی، اور اب بھی سرحد پار منشیات کے نیٹ ورک میں اس کے کردار کی جانچ جاری ہے۔
بابو سنگھ کو اپریل۲۰۲۲میں گرفتار کیا گیا تھا جب اس کے ایک کارکن محمد شریف شاہ، جو جنوبی کشمیر کے کوکرناگ کا رہائشی ہے، جموں میں۰۹ء۶لاکھ روپے کی حوالہ رقم کے ساتھ پکڑا گیا تھا۔
سال۲۰۲۴میں ایس آئی اے نے مزید دو افراد کو گرفتار کیا، جن میں ایک پولیس اہلکار بھی شامل تھا، جو مبینہ طور پر اس منشیات۔دہشت نیٹ ورک کا حصہ تھے۔ ان میں سلیکشن گریڈ کانسٹیبل سیف الدین (جموں) اور سابق سرپنچ فاروق احمد جنگل (اوڑی، ضلع بارہمولہ) شامل ہیں، جس سے اس کیس میں ملزمان کی تعداد بڑھ کر۷ ۱ ہو گئی۔
ایس آئی اے کی ایک ٹیم نے ۲ جنوری کو جموں کے بیلی چرنا علاقے میں ایک پولیس اہلکار اور ایک سرپنچ کے گھروں پر بھی چھاپے مارے اور ان سے متعدد الیکٹرانک آلات ضبط کیے۔ (ایجنسیاں)ویب ڈیسک
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔










