’حکومت میںابھی ایک سال ہی ہوا ہے‘وعدہ کرتا ہوں کہ حالات بتدریج بہتر ہوتے جائیں گے‘
سرینگر/۳نومبر
جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ‘ عمر عبداللہ نے پیر کے روز کہا کہ اْن کی حکومت نے صدیوں پرانی ’در بار موو‘ کی روایت کو اس لیے بحال کیا ہے تاکہ سابق ریاست کی دو راجدھانیوں، جموں اور سری نگر، کے درمیان پائے جانے والے فاصلے اور خلیج کو کم کیا جا سکے۔ اْن کا کہنا تھا کہ بعض چیزوں کو صرف مالی پیمانوں پر نہیں تولا جا سکتا۔
’در بار موو‘ کی روایت کے تحت جموں و کشمیر کے سرکاری دفاتر سردیوں میں سری نگر سے جموں منتقل کیے جاتے ہیں اور گرمیوں میں واپس سری نگر۔
سول سیکرٹریٹ اور دیگرموو دفاتر۳۰؍ اور ۳۱ ؍اکتوبر کو سری نگر میں بند کر دیے گئے اور پیر کے روز سے جموں میں چھ ماہ کے لیے اپنا کام کاج شروع کر دیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ کچھ لوگ ہمیشہ جموں اور سری نگر کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سیاسی فائدے کیلئے ’جموں بمقابلہ کشمیر‘ کا مسئلہ چھیڑتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا ’’ہم اْس خلیج کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور دوری مٹانا چاہتے ہیں۔‘‘
یہ سالانہ روایت تقریباً ۱۵۰ سال پہلے ڈوگرہ حکمرانوں کے دور میں شروع ہوئی تھی۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جون ۲۰۲۱ میں اسے یہ کہہ کر بند کیا تھا کہ انتظامیہ مکمل طور پر ای۔آفس نظام پر منتقل ہو چکی ہے، جس سے سالانہ تقریباً ۲۰۰ کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔
اس فیصلے کو مختلف حلقوں سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، خاص طور پر جموں کے کاروباری طبقے نے اسے تجارت اور دونوں خطوں کے درمیان روایتی رشتے پر کاری ضرب قرار دیا۔ وہ طویل عرصے سے اس روایت کی بحالی کا مطالبہ کر رہے تھے۔
۱۶؍ اکتوبر کو عمر عبداللہ نے اپنا انتخابی وعدہ پورا کرتے ہوئے در بار موو کو بحال کر دیا، جس سے جموں کے کاروباری طبقے کو زبردست راحت ملی۔
وزیرا علیٰ نے کہا ’’آپ نے آج صبح خود دیکھا ہوگا کہ یہ فیصلہ جموں کے لیے کتنا اہم تھا۔ سول سیکرٹریٹ تک میرا سفر جو عام طور پر پانچ منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، آج ایک گھنٹہ لگا کیونکہ لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے اور محبت کا اظہار کر رہے تھے۔ جب ’در بار موو‘ بند ہوا تھا تو جموں سب سے زیادہ متاثر ہوا تھا۔‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انہوں نے اپنا فرض ادا کیا ہے اور امید ظاہر کی کہ اْن کے اس فیصلے سے جموں و کشمیر کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔
عمرعبداللہ نے کہا ’’سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہر چیز کو پیسے سے نہیں تولا جا سکتا۔ در بار موو کو پیسہ بچانے کے لیے بند کیا گیا تھا۔ کچھ چیزیں پیسوں سے بڑھ کر ہوتی ہیں، کیونکہ یہ جموں و کشمیر کے دونوں خطوں کے جذبات اور اتحاد سے جڑی ہوئی ہیں۔‘‘
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ روایت دونوں خطوں کو جوڑنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہا ’’جب در بار مووبند کیا گیا تو دونوں خطوں کے درمیان اتحاد متاثر ہوا۔ ہم نے اس غلطی کو درست کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ فیصلہ مالی طور پر بھی فائدہ مند ثابت ہوگا، مگر ہر چیز کو صرف روپے پیسے میں نہیں تولا جا سکتا۔ اگر در بار مووکو صرف مالی بنیاد پر دیکھا جائے گا تو ایسی ہی غلط فیصلے لیے جائیں گے۔ اس روایت کی بحالی سے جموں کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا۔‘‘
ملازمین کے تبادلے سے متعلق انتظامات پر بات کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ چونکہ یہ عمل ایک عرصے بعد ہو رہا ہے، اس لیے کچھ دن لگیں گے کہ حکومت تمام کمیوں کو دور کر سکے۔
ان کاکہنا تھا’’دفاتر کو منظم کرنا ہے، ملازمین کے رہائشی انتظامات کرنے ہیں، اور باقی تمام سہولیات بھی فراہم کرنی ہیں۔ اس کے لیے ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جس کی سربراہی ایک ایڈیشنل چیف سیکرٹری کریں گے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ شالین کبرا اور اْن کی ٹیم ملازمین کے تمام مسائل حل کریں گے۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ اْن کی حکومت کو اقتدار سنبھالے صرف ایک سال ہوا ہے، ’’اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ حالات بتدریج بہتر ہوتے جائیں گے۔(ندائے مشرق ویب ڈیسک)‘‘










