یہ افسوسناک ہے کہ این بی بی ایس انٹرنوںکا معاملہ اتنا طویل ہوگیا ہے‘صحت محکمہ کو اس بارے میں فیصلہ کرنا ہے:وزیر اعلیٰ
سرینگر/۷ستمبر
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کو کہا کہ وہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں کیونکہ جموں و کشمیر اور مرکز کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی سمیت کئی معاملات زیر التوا ہیں۔
صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے انعقاد کو بھی سراہا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’میں وزیر داخلہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہوں۔ جموں و کشمیر اور مرکزی حکومت کے درمیان کئی معاملات ہیں جن پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔‘‘
عمرعبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر اور مرکز کے درمیان ریاستی حیثیت کی بحالی، بزنس رولز کی منظوری، تقریباً دو سال سے زیر التوا ایڈووکیٹ جنرل کی تقرری اور ریزرویشن رپورٹ سمیت کئی معاملات زیر غور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یونین ٹیریٹری کابینہ کی جانب سے مرکز کے پہلے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دینے کے باوجود ریزرویشن رپورٹ ابھی تک مرکزی حکومت کو نہیں بھیجی گئی ہے۔
عمر عبداللہ نے نئی دہلی میں امت شاہ سے اپنی حالیہ ملاقات کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ ان تمام معاملات پر بات چیت جاری ہے۔
اتر پردیش کے سہارنپور میں مسجد کے انہدام کے بارے میں نیشنل کانفرنس کے رہنما نے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ’’دوسرے فریق‘‘ کے طور پر برتاؤ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا، ’’ان کے رہنما بیانات دیتے ہیں کہ مسلمان معاشرے کا اٹوٹ حصہ ہیں، لیکن زمینی سطح پر اس کے برعکس واقعات پیش آتے ہیں۔ وہ اپنے ہی رہنماؤں کی بات نہیں سنتے۔‘‘
پیر کو شروع ہونے والے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ملک کے فلم سازوں کو یاد دلانے کی ایک کوشش ہے کہ سوئٹزرلینڈ اور دیگر غیر ملکی مقامات کا رخ کرنے سے پہلے کشمیر فلموں کی شوٹنگ کے لیے ایک اہم ترین مقام ہوا کرتا تھا۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پہلے بین الاقوامی فلم فیسٹیول کا انعقاد ایک اچھی پہل ہے اور اس کے کئی مقاصد ہیں۔ اس سے ماس کمیونیکیشن کے طلبہ اور فلموں کے شائقین کو بین الاقوامی فلموں سے روشناس ہونے کا موقع ملے گا، جبکہ مقامی فلم سازوں کے لیے بھی یہ ایک سیکھنے کا تجربہ ہوگا۔
عمر عبداللہ نے کہا، ’’یہ فلم پروڈیوسروں کو یہ یاد دلانے کی بھی ایک کوشش ہے کہ سوئٹزرلینڈ اور دیگر ممالک میں فلموں کی شوٹنگ شروع کرنے سے پہلے یہ کام کشمیر میں ہوا کرتا تھا، اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو۔‘‘
طبی انٹرنز کی بھوک ہڑتال کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ معاملہ اتنے طویل عرصے تک نہیں کھنچنا چاہیے تھا۔انہوں نے کہا، ’’یہ افسوسناک ہے کہ یہ معاملہ اتنا طویل ہوگیا ہے۔ صحت محکمہ کو اس بارے میں فیصلہ کرنا ہے اور جب تک وہ فیصلہ نہیں کرتا، کوئی دوسرا محکمہ کارروائی نہیں کرسکتا۔‘‘
عمر عبداللہ نے کہا کہ وزیر صحت سکینہ ایتو احتجاج کرنے والے انٹرنز کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہیں کچھ یقین دہانیاں بھی کرائی گئی ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا، ’’اس سے آگے آپ کو ثکینہ سے پوچھنا ہوگا۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ جلد از جلد حل ہو۔ یہ کسی کے مفاد میں نہیں ہے، کیونکہ اس سے کام بھی متاثر ہو رہا ہے اور ان طلبہ کی انٹرن شپ بھی۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(ندائے مشر ق ویب ڈیسک)









