سرینگر/۳۰؍اکتوبر
پی ڈی پی لیڈر اور رکن اسمبلی وحید پرہ نے سرکاری اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر حکومت تعلیم یافتہ بے روز گار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے ۔
پرہ نے کہا کہ بے روزگاروں کیلئے ایک لاکھ نوکریوں کا وعدہ کرکے برسراقتدار آنے والی جموں و کشمیر حکومت نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں ناکام ہوئی ہے ۔
ان کا کہنا ہے کہ آج بے روزگاری کی شرح ۳۲فیصد ہے جو ہندوستان میں سب سے زیادہ ہے ۔
پی ڈی پی لیڈر نے یہ باتیں ’ایکس‘پر اپنے ایک پوسٹ میں کیں۔
پرہ نے کہا’’جو جموں وکشمیر حکومت ایک برس قبل اقتدار میں آئی تھی اس نے بے روزگا نوجوانوں کو ایک لاکھ نوکریاں دینے کا وعدہ کیا تھا مگر اس حکومت نے اپنے نوجوانوں کو مایوس کر دیا، آج بے روزگاری کی شرح۳۲فیصد ہے جو ملک میں سے زیادہ ہے ‘‘۔
ان کا کہنا تھا’’ہر ایک اعداد و شمار کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا وعدہ، ایک نامکمل مستقبل اور مایوسی میں دھکیلی گئی ایک پوری نسل کی کہانی چھپی ہے ‘‘۔
پلوامہ کے ممبراسمبلی نے پوسٹ میں کہا’’مختلف محکموں میں ۲ہزار ۹سو۶۰گزیٹیڈ اسامیاں‘۱۴ہزار۴سو۹۳ نان گزیٹیڈ اور کل۱۷ہزار ۴سو۵۳سرکاری نوکریاں خالی پڑی ہیں‘‘۔
پرہ نے کہا کہ صرف محکمہ صحت و طبی تعلیم میں ہی۷ہزار۲سو۸۵خالی اسامیاں پڑی ہیں اس کے بعد فنانس، بجلی اور انڈسٹریز محکمے آتے ہیں، یہ محض اعداد و شمار نہیں ہیں بلکہ یہ ان ہزاروں پڑھے لکھے نوجوانوں ضائع ہونے والے موقع ہیں جو بھرتی مہمات کے انتظار میں برسوں سے بیٹھے ہیں جو کبھی آتی ہی نہیں ہیں۔
ان کا الزام تھا’’جب حکومت خاموش تماشائی بنی رہتی ہے جبکہ ہزاروں منظور شدہ اسامیاں خالی پڑی ہیں، تو یہ نا اہلی نہیں بلکہ دھوکہ ہے ۔‘‘










