اگرتلہ، 28 اکتوبر (یو این آئی) سپریم کورٹ نے تریپورہ کے چیف سکریٹری سمیت کئی دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے اعلیٰ عہدیداروں کو جانوروں کے حقوق سے متعلق قوانین کو سختی سے نافذ کرنے سے متعلق حلف نامہ داخل کرنے میں ناکامی پر طلب کیا ہے ۔
چیف سیکرٹری کو 3 نومبر کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے ۔
جسٹس وکرم ناتھ، سندیپ مہتا، اور این وی انجاریا نے رہنما ہدایات پر عمل نہ کرنے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سلسلے میں عہدیداروں کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اور ان کی کوتاہی سے ملک بھر میں آوارہ کتوں کی پریشانی بڑھی ہے ۔
ان واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایسے واقعات سے بین الاقوامی سطح پر ملک کی شبیہ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
عدالت عظمی نے واضح کیا کہ صرف مغربی بنگال، تلنگانہ اور دہلی میونسپل کارپوریشن نے اپنا حلف نامہ جمع کرایا ہے ، جب کہ تریپورہ سمیت دیگر ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں نے اے بی سی قوانین کے تحت مطلوبہ معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔
بنچ نے واضح طور پر کہا کہ ہدایات کی کسی بھی عدم تعمیل کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے ساتھ ہی متعلقہ چیف سیکرٹری کو ذاتی طور پر حاضر ہونے کا حکم دیا۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے اس سال کے شروع میں مختلف علاقوں میں آوارہ کتوں کے حملوں کی خبروں کے بعد اس معاملے کا از خود نوٹس لیا تھا۔ ججوں نے ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ذمہ داریوں کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ 2023 کے قوانین کے مطابق آوارہ کتوں کی نس بندی، ٹیکہ کاری اور جراثیم کشی کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے عہدیداروں کو مناسب بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے کی بھی ہدایت دی جس میں پناہ گاہیں، کتوں کے باڑے ، کتوں کو پکڑنے والے دستے اور کھانا کھلانے کی جگہیں شامل ہوں۔
تریپورہ سمیت متعدد شمال مشرقی ریاستوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنا حلف نامہ داخل کرنے میں تاخیر کی وضاحت کرے اور آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی تفصیلات فراہم کرے ۔










